بھارت میں عالمی حدت کا حیران کن تضاد، گرمی بڑھنے کے باوجود بعض علاقوں میں درجہ حرارت کیوں کم ہو رہا ہے؟

بھارت میں عالمی حدت کا حیران کن تضاد، گرمی بڑھنے کے باوجود بعض علاقوں میں درجہ حرارت کیوں کم ہو رہا ہے؟

دنیا بھر میں عالمی حدت کے باعث درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، لیکن بھارت ایک غیر معمولی موسمیاتی تضاد کا سامنا کر رہا ہے،سائنسی مطالعات میں بھارت کے بعض علاقوں کو ’’وارمنگ ہول‘‘ قرار دیا گیا ہے، جہاں طویل مدتی درجہ حرارت میں وہ اضافہ نظر نہیں آتا جس کی عالمی سطح پر توقع کی جاتی ہے،تاہم ماہرین واضح کرتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بھارت عالمی حدت سے محفوظ ہو گیا ہے
یہ مظہر سائنس دانوں کے لیے اس لیے اہم ہے کہ بھارت ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں شدید گرمی، مون سون اور فضائی آلودگی ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں،نئی تحقیق کے مطابق فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اضافے کے باوجود بھارت میں گرمیوں کے دوران بعض حالات میں سطحی ٹھنڈک پیدا ہو سکتی ہے، جس سے عالمی حدت کا مجموعی اثر عارضی طور پر دب جاتا ہے
سائنس دانوں کے مطابق اس پیچیدہ صورتحال میں مون سون کے نظام، بادلوں، بارش، فضائی آلودگی اور ماحول میں موجود ذرات کا کردار اہم ہو سکتا ہے،یہی عوامل سورج کی توانائی کے زمین تک پہنچنے اور فضا میں حرارت کی تقسیم کو متاثر کرتے ہیں،تاہم محققین ابھی تک اس پورے عمل کی حتمی وضاحت پر متفق نہیں ہیں
دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت کو عالمی حدت سے محفوظ ملک سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ 2026 میں بھی بھارت اور پاکستان کے بعض علاقوں میں شدید گرمی کی لہریں دیکھی گئیں، جبکہ ایک تازہ سائنسی تجزیے کے مطابق اپریل 2026 کی بھارت میں آنے والی شدید گرمی کے دوران موجودہ موسمی حالات ماضی کے مقابلے میں تقریباً 2 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ گرم تھے
اس لیے بھارت کا ’’وارمنگ ہول‘‘ دراصل عالمی حدت سے استثنا نہیں بلکہ موسمیاتی نظام کی پیچیدگی کی ایک مثال ہے،ایک طرف طویل مدتی درجہ حرارت کے بعض رجحانات عالمی اوسط سے مختلف دکھائی دیتے ہیں، دوسری طرف شدید گرمی اور نمی انسانی صحت کے لیے خطرہ بڑھا رہے ہیں
ماہرین کے لیے اصل سوال اب یہ ہے کہ بھارت میں یہ غیر معمولی موسمیاتی رویہ کتنی دیر برقرار رہے گا اور عالمی حدت میں اضافے کے ساتھ اس میں کیا تبدیلی آئے گی۔ بھارت کا تجربہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ عالمی موسمیاتی تبدیلی ہر ملک اور ہر خطے کو ایک ہی انداز میں متاثر نہیں کرتی

قومی خبریں سے مزید