دنیا کی سب سے کم عمر آبادی والے براعظم افریقہ میں بچوں کے لیے موزوں شہروں کی تحریک
افریقہ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی کے ساتھ ایسے شہروں کی تعمیر کی تحریک زور پکڑ رہی ہے جو بچوں کے لیے زیادہ محفوظ، صحت مند اور قابلِ رہائش ہوں،ماہرین شہری منصوبہ بندی اور والدین کا ایک بڑھتا ہوا حلقہ چاہتا ہے کہ براعظم کے مستقبل کے شہروں میں بچوں کی ضروریات کو محض اضافی سہولت کے بجائے بنیادی ترجیح بنایا جائے
افریقہ اس وقت دنیا کا سب سے تیزی سے شہری ماحول اپنانے والا خطہ ہے اور اس کی آبادی کا بڑا حصہ بچوں اور نوجوانوں پر مشتمل ہے،تیزی سے پھیلتے شہروں میں آبادی کے دباؤ، ٹریفک، محدود کھلی جگہوں اور محفوظ پیدل راستوں کی کمی نے بچوں کے آزادانہ کھیلنے اور نقل و حرکت کے مواقع محدود کر دیے ہیں
نئی شہری تحریک کا زور ایسے محلوں اور عوامی مقامات کی تشکیل پر ہے جہاں بچے گھروں سے اسکول، کھیل کے میدانوں اور دیگر ضروری مقامات تک زیادہ محفوظ طریقے سے پہنچ سکیں،اس کے ساتھ کھیل کے میدانوں، پارک ، پیدل چلنے کے راستوں اور محفوظ سڑکوں کو شہری منصوبہ بندی کا لازمی حصہ بنانے پر بھی زور دیا جا رہا ہے
ماہرین کے مطابق بچوں کے لیے موزوں شہر صرف بچوں کے لیے ہی بہتر نہیں ہوتے بلکہ ان میں رہنے والے تمام افراد کے لیے زیادہ محفوظ اور صحت مند ماحول پیدا کرتے ہیں،اسی لیے افریقہ میں بچوں کو شہری منصوبہ بندی کے مرکز میں رکھنے کی بحث مستقبل کے شہروں کی تشکیل کے ایک بڑے سوال میں تبدیل ہو رہی ہے
افریقہ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی کے پیش نظر ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کیے جانے والے شہری منصوبہ بندی کے فیصلے آنے والی نسلوں کی زندگی کے معیار پر براہ راست اثر ڈالیں گے





