افغان نژاد عائشہ وہاب امریکی کانگریس کی رکن منتخب، 53 فیصد ووٹ لے کر ایرک سویل ویل کی نشست جیت لی

افغان نژاد عائشہ وہاب امریکی کانگریس کی رکن منتخب، 53 فیصد ووٹ لے کر ایرک سویل ویل کی نشست جیت لی

کیلیفورنیا کی ریاستی سینیٹر عائشہ وہاب نے خصوصی انتخاب میں بے ایریا ریپڈ ٹرانزٹ بورڈ کی صدر میلیسا ہرنانڈیز کو شکست دے کر امریکی ایوان نمائندگان کی نشست جیت لی ہے،عائشہ وہاب نے 53.09 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ میلیسا ہرنانڈیز 46.91 فیصد ووٹ لے سکیں،یہ نشست سابق رکن کانگریس ایرک سویل ویل کے مستعفی ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی اور عائشہ وہاب اب ان کی موجودہ مدت جنوری 2027 تک پوری کریں گی
عائشہ وہاب کی کامیابی خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ وہ امریکی کانگریس کے لیے منتخب ہونے والی پہلی افغان نژاد امریکی ہیں،39 سالہ عائشہ وہاب نیویارک کے علاقے کوئنز میں افغان پناہ گزین والدین کے گھر پیدا ہوئیں،ان کے والد کو اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ بہت کم عمر تھیں جبکہ والدہ بھی کچھ عرصے بعد انتقال کر گئیں،والدین کے انتقال کے بعد عائشہ اور ان کی بہن کو رضاعی نگہداشت کے نظام میں رکھا گیا، جہاں کئی سال گزارنے کے بعد انہیں کیلیفورنیا کے شہر فریمونٹ میں ایک افغان خاندان نے گود لے لیا
عائشہ وہاب نے اپنی ابتدائی زندگی اور تعلیم کیلیفورنیا میں مکمل کی،انہوں نے جان ایف کینیڈی ہائی اسکول اور اولون کالج سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد سان ہوزے اسٹیٹ یونیورسٹی سے سیاسیات میں بی اے کیا،بعد ازاں انہوں نے کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی ایسٹ بے سے کاروباری انتظام میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی جبکہ 2024 میں یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا سے سماجی کام میں ڈاکٹریٹ مکمل کی
سیاست میں آنے سے پہلے عائشہ وہاب نے کاروباری اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کام کیا اور بعد میں مقامی سماجی و شہری سرگرمیوں میں فعال ہوئیں،2018 میں وہ ہیورڈ سٹی کونسل کی رکن منتخب ہوئیں اور افغان نژاد پہلی خاتون بنیں جو امریکہ میں کسی عوامی عہدے کے لیے منتخب ہوئی تھیں،2022 میں وہ کیلیفورنیا کی ریاستی سینیٹ کے لیے منتخب ہوئیں اور ریاستی قانون ساز ادارے میں پہنچنے والی پہلی افغان نژاد امریکی بنیں
عائشہ وہاب کی سیاسی شناخت رہائش، سستی ہاؤسنگ، معاشی مساوات، مزدوروں کے حقوق اور سماجی تحفظ کے معاملات پر ترقی پسند مؤقف سے بنی،ریاستی سینیٹر کی حیثیت سے انہوں نے ذات پات کی بنیاد پر امتیاز کے خلاف قانون سازی بھی پیش کی تھی، جو ریاستی مقننہ سے منظور ہونے کے باوجود گورنر گیون نیوزوم نے ویٹو کر دی تھی
حالیہ خصوصی انتخاب میں عائشہ وہاب کو اپنی ہی جماعت کے اندر سے بھی سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا،ان کی حریف میلیسا ہرنانڈیز کو بڑے مالیاتی مفادات کی جانب سے نمایاں مالی حمایت حاصل ہوئی اور انتخابی مہم کے دوران عائشہ وہاب کے خلاف لاکھوں ڈالر خرچ کیے گئے،اس کے باوجود وہ اپنی انتخابی مہم کو عوامی حمایت پر مرکوز رکھنے میں کامیاب رہیں
دلچسپ امر یہ ہے کہ عائشہ وہاب اور میلیسا ہرنانڈیز نومبر میں ایک بار پھر اسی کانگریسی حلقے سے مقابلہ کریں گی، تاہم اس مرتبہ داؤ مکمل دو سالہ مدت کے لیے ہوگا،موجودہ خصوصی انتخاب میں عائشہ وہاب کی کامیابی انہیں فوری طور پر ایوان نمائندگان میں پہنچا رہی ہے، جبکہ نومبر کا انتخاب اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ جنوری 2027 سے اگلی مکمل مدت کے لیے اس نشست پر کون فائز ہوگا

قومی خبریں سے مزید