دربا مترا کی نئی کتاب میں تیسری دنیا کی نسائی تحریک کی تشکیل کی تاریخ

دربا مترا کی نئی کتاب میں تیسری دنیا کی نسائی تحریک کی تشکیل کی تاریخ

امریکی مورخ اور ماہرِ نسائی مطالعات دربا مترا کی نئی کتاب ’’دی فیوچر دیٹ واز‘‘ میں تیسری دنیا کی نسائی تحریک کی تشکیل، اس کے فکری پس منظر اور آمرانہ نظاموں کے خلاف خواتین کی جدوجہد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے
کتاب میں جنوبی ایشیا، افریقہ، کیریبین اور دیگر نوآزاد خطوں کی خواتین کی ان کوششوں کو سامنے لایا گیا ہے جن کے ذریعے انہوں نے خواتین کے مسائل پر تحقیق، علم کی تیاری اور سیاسی جدوجہد کو ایک دوسرے سے جوڑا
دربا مترا کے مطابق ان خواتین نے صرف اپنے حقوق کے لیے آواز نہیں اٹھائی بلکہ انہوں نے یہ بھی کوشش کی کہ خواتین سے متعلق تحقیق اور علم کی تیاری کا اختیار خود ان کے ہاتھ میں ہو ان کی جدوجہد نے خواتین، صنف اور جنسی شناخت سے متعلق عالمی علمی بحث کو بھی نمایاں طور پر متاثر کیا
کتاب میں اس دور کو بھی نمایاں کیا گیا ہے جب ایشیا، افریقہ اور دیگر نوآزاد خطوں کی خواتین نے عالمی سطح پر ایک دوسرے سے رابطے قائم کیے ان روابط کے ذریعے خواتین نے غربت، معاشی عدم مساوات، سیاسی جبر اور پدرشاہی نظام جیسے مسائل کو ایک وسیع سیاسی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی
مصنفہ کے مطابق تیسری دنیا کی نسائی تحریک محض خواتین کے مخصوص مسائل تک محدود نہیں تھی بلکہ اس کا تعلق عالمی عدم مساوات، نوآبادیاتی ورثے اور آمرانہ طرز حکمرانی سے بھی تھا۔ خواتین نے تحقیق اور تحریر کو سیاسی جدوجہد کا اہم ذریعہ بنایا اور ایسے ادارے اور اشاعتی پلیٹ فارم قائم کیے جہاں ان کے اپنے تجربات اور خیالات کو جگہ مل سکے
کتاب کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ خواتین نے علم پیدا کرنے کے ذرائع پر توجہ مرکوز کی۔ ان کا خیال تھا کہ اگر خواتین خود اپنے حالات پر تحقیق کریں اور اپنے تجربات کو دستاویزی شکل دیں تو وہ اپنے حقوق اور سیاسی مطالبات کو زیادہ مؤثر انداز میں سامنے لاسکتی ہیں
مصنفہ نے یہ بھی دکھایا ہے کہ اس تحریک کے ذریعے خواتین نے ایک ایسے مستقبل کا تصور پیش کیا تھا جو موجودہ معاشرتی اور سیاسی نظام سے زیادہ آزاد اور منصفانہ ہو۔ تاہم ان کے بہت سے خواب مکمل طور پر حقیقت میں تبدیل نہ ہوسکے
کتاب میں آمرانہ حکومتوں کے کردار پر بھی خاص توجہ دی گئی ہے۔ مصنفہ کے مطابق خواتین کی جانب سے قائم کیے گئے تحقیقی اور فکری ادارے سیاسی دباؤ اور آمرانہ حکومتوں کی کارروائیوں کے باعث کئی مرتبہ کمزور یا ختم ہوئے
اس کے باوجود مختلف خطوں کی خواتین کے درمیان قائم ہونے والے روابط اور ان کی فکری جدوجہد نے نسائی تحریک کو ایک عالمی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا
کتاب میں یہ مؤقف بھی سامنے آتا ہے کہ تیسری دنیا کی خواتین کی تاریخ کو صرف مغربی نسائی تحریک کے تناظر میں دیکھنا درست نہیں۔ ان معاشروں کی خواتین نے اپنے مخصوص سیاسی، سماجی اور تاریخی حالات سے جنم لینے والی اپنی تحریکیں اور نظریات تشکیل دیے
دربا مترا کی یہ کتاب اسی بھولی بسری تاریخ کو دوبارہ سامنے لانے کی کوشش کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ خواتین نے علم، تحقیق، تنظیم سازی اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے ایک مختلف اور زیادہ آزاد مستقبل کا تصور کس طرح تشکیل دیا تھا

قومی خبریں سے مزید