امریکی پابندیاں عدالت کی آزادی پر کھلا حملہ ہیں، عالمی فوجداری عدالت
دی ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت نے امریکا کی جانب سے اپنے صدر جج توموکو اکانے اور ایک سینئر وکیل پر عائد پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں عدالت کی آزادی پر کھلا حملہ قرار دیا ہے
امریکی حکومت نے جاپان سے تعلق رکھنے والی عالمی فوجداری عدالت کی صدر توموکو اکانے اور سینیگال سے تعلق رکھنے والے سینئر مقدماتی وکیل عبداللہ سیے کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے
ان پابندیوں کے تحت دونوں عہدیداروں کو امریکا میں داخلے سے روکا گیا ہے جبکہ امریکی مالیاتی نظام کے ذریعے لین دین اور امریکا میں موجود مالی اثاثوں تک رسائی بھی محدود کردی گئی ہے
عالمی فوجداری عدالت نے کہا ہے کہ ججوں، استغاثہ کے ارکان اور عملے کو نشانہ بنانے والی اس طرح کی کارروائیاں قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی انصاف کے نظام کو کمزور کرتی ہیں
عدالت کے مطابق وہ اپنے رکن ممالک کی جانب سے دیے گئے اختیار کے تحت غیر جانب دارانہ انداز میں کام کرتی ہے اور کسی بیرونی دباؤ کے سامنے اپنے فرائض سے پیچھے نہیں ہٹے گی
امریکی حکومت عالمی فوجداری عدالت پر الزام عائد کرتی ہے کہ اس نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا اور امریکا اور اس کے اتحادیوں کے حکام کے خلاف کارروائی کی کوشش کی۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ عدالت سیاسی طور پر جانبدار ہوچکی ہے
امریکی پابندیوں کو عدالت کی جانب سے اسرائیل سے متعلق تحقیقات اور کارروائیوں کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے عالمی فوجداری عدالت نے 2024 میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے خلاف جنگی جرائم سے متعلق گرفتاری کا حکم جاری کیا تھا
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عدالت کے خلاف حکومت کی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے اسے امریکی اور اسرائیلی اہلکاروں کے خلاف غیر قانونی اختیار استعمال کرنے والا ادارہ قرار دیا ہے
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکی پابندیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ عالمی فوجداری عدالت بین الاقوامی فوجداری انصاف کے نظام کا ایک اہم حصہ ہے
جاپان نے بھی اپنی شہری توموکو اکانے کے خلاف امریکی پابندیوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے، جبکہ یورپی ممالک نے عدالت کی آزادی اور غیر جانب داری کی حمایت کی ہے
نیدرلینڈز، جہاں عالمی فوجداری عدالت قائم ہے، نے بھی پابندیوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ فرانس، جرمنی اور اسپین سمیت دیگر یورپی ممالک نے عدالت کی آزادی کے دفاع پر زور دیا ہے
عالمی فوجداری عدالت کا کہنا ہے کہ دباؤ اور پابندیوں کے باوجود وہ جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی جیسے سنگین جرائم کی تحقیقات اور مقدمات کی کارروائی جاری رکھے گی
تازہ امریکی اقدام کے بعد عدالت کے متعدد جج اور عہدیدار امریکی پابندیوں کی زد میں آچکے ہیں، جس سے امریکا اور عالمی فوجداری عدالت کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے





