تنخواہ دار طبقے کے پیچیدہ ٹیکس فارم پر وزیر خزانہ برہم، آسان طریقہ متعارف کرانے کا مطالبہ
اسلام آباد میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تنخواہ دار طبقے کے لیے موجودہ ٹیکس گوشوارے کے پیچیدہ طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اس قدر مشکل فارم رکھنے کی کوئی منطق نہیں ان کے مطابق تنخواہ دار افراد پہلے ہی اپنی آمدن پر ٹیکس کٹوا کر رقم بینک کھاتوں میں وصول کرتے ہیں، اس لیے ان کے لیے ٹیکس گوشوارے کا عمل مزید آسان بنایا جانا چاہیے
وزیر خزانہ نے یہ بات محصولات کے وفاقی ادارے کے دفتر میں چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے لیے مقررہ ٹیکس اسکیم کے تحت نئی موبائل ایپ کی افتتاحی تقریب میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ پیچیدہ فارم ایسا ہے جسے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص کے لیے بھی مکمل کرنا مشکل ہو سکتا ہے
انہوں نے بتایا کہ تنخواہ دار افراد کی تقریباً 70 فیصد آمدن ٹیکس کٹوتی کے بعد براہ راست بینک کھاتوں میں جمع ہوتی ہے، اس لیے ان سے اس قدر پیچیدہ معلومات طلب کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے
دوسری جانب چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے لیے نئی ’’آسان تاجر‘‘ موبائل ایپ متعارف کرا دی گئی ہے ایپ میں اردو زبان میں سادہ فارم شامل کیا گیا ہے جس کے ذریعے تاجر اپنی رجسٹریشن اور ٹیکس گوشوارے کا عمل مکمل کر سکیں گے
رجسٹریشن کے دوران ادائیگی کے لیے شناختی نمبر جاری کیا جائے گا، جس کے ذریعے تاجر اپنا ٹیکس ادا کر سکیں گے ادائیگی مکمل ہونے کے بعد انہیں رجسٹریشن اور ٹیکس دہندہ ہونے کی حیثیت سے متعلق اطلاع بھی فراہم کی جائے گی
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر نے بتایا کہ یہ ایپ آئندہ چند دنوں میں ایپل کے موبائل نظام پر بھی دستیاب ہوگی، جبکہ ستمبر کے پہلے ہفتے تک پشتو، بلوچی اور سندھی زبانوں میں بھی اس کے نسخے متعارف کرانے کا منصوبہ ہے
اسکیم میں شامل ہونے والے تاجروں کو ایک سبز شناختی تختی بھی فراہم کی جائے گی۔ مقررہ مدت کے اندر رجسٹریشن کرانے والے تاجروں کو یہ تختی مفت دی جائے گی، جبکہ بعد میں اس کی قیمت زیادہ سے زیادہ 1500 روپے رکھنے کی توقع ہے
محصولات کے وفاقی ادارے کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ رجسٹرڈ دکاندار کی دکان پر شناختی تختی نمایاں ہونے کی صورت میں معمول کے ٹیکس معاملات کے لیے ادارے کا کوئی افسر دکان میں داخل نہیں ہوگا
وزیر خزانہ نے گفتگو کے دوران یہ بھی بتایا کہ حکومت نے امریکی مالیاتی تعاون کے ایک خصوصی انتظام کے لیے باضابطہ درخواست دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد روپے کو مضبوط بنانے، زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے اور بار بار قرضوں کی مدت میں توسیع پر انحصار کم کرنا ہے
محمد اورنگزیب کے مطابق اس معاملے پر امریکی حکام سے مذاکرات جاری ہیں اور ستمبر 2026 کے اختتام تک جواب ملنے کی توقع ہے۔ درخواست کی مالیت تقریباً 10 ارب ڈالر بتائی گئی ہے، تاہم وزیر خزانہ کے مطابق اس کا بنیادی مقصد روایتی قرض حاصل کرنے کے بجائے ملکی کرنسی اور بیرونی مالی استحکام پر اعتماد بحال کرنا ہے
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت قرضوں کی مدت پانچ، سات اور دس سال تک بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ بار بار قرضوں کی مدت میں توسیع کی ضرورت کم ہو۔ موجودہ دوطرفہ قرضوں کی مدت بھی دس سال تک بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔





