کلاڈ کے اے آئی واٹرمارک نے نئی دوڑ شروع کر دی، صارفین مصنوعی ذہانت سے تیار متن چھپانے کے طریقے تلاش کرنے لگے

کلاڈ کے اے آئی واٹرمارک نے نئی دوڑ شروع کر دی، صارفین مصنوعی ذہانت سے تیار متن چھپانے کے طریقے تلاش کرنے لگے

سان فرانسسکو: اینتھروپک کے مصنوعی ذہانت کے ماڈل کلاڈ سے تیار ہونے والے متن میں پوشیدہ شناختی نشان شامل کیے جانے کے بعد ایسے صارفین کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے جو اس نشان کو ختم کرنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں،کمپنی نے رواں ماہ کلاڈ کے تیار کردہ متن میں ایک ایسا غیر محسوس نشان شامل کرنا شروع کیا ہے جس کے ذریعے یہ شناخت ممکن ہو سکے کہ متن مصنوعی ذہانت سے تیار کیا گیا ہے
گِزموڈو کے مطابق اس اقدام کے بعد ’’اے آئی واٹرمارک ریموور‘‘ کی گوگل پر تلاش میں صرف ایک ہفتے کے دوران 60 فیصد اضافہ ہوا ہے،اسی دوران ایک کھلے ماخذ کے منصوبے ’’واٹرمارکس ریموور‘‘ نے گِٹ ہب پر 15 ہزار سے زیادہ ستارے حاصل کر لیے، جبکہ ہزاروں صارفین نے اس کے کوڈ کو نقل کیا ہے،اس منصوبے کا مقصد مصنوعی ذہانت سے تیار متن میں موجود ایسے شناختی آثار ختم کرنا ہے جن سے اس کی اے آئی تخلیق کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے
مصنوعی ذہانت کی تعلیم دینے والی صابرینا رامونوف نے بھی ایسا ویب ٹول تیار کیا ہے جو کلاڈ کے تیار کردہ متن سے مبینہ طور پر باقی رہ جانے والے شناختی آثار صاف کرنے کا دعویٰ کرتا ہے،اس رجحان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار مواد کی شناخت کی ٹیکنالوجی جیسے جیسے بہتر ہو رہی ہے، ویسے ہی اسے چھپانے کی کوششیں بھی بڑھ رہی ہیں
ماہرین کے لیے یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ اے آئی سے تیار متن کو چھپانے کی خواہش صرف رازداری تک محدود نہیں،بعض ملازمین اپنی کمپنیوں میں اے آئی کے استعمال کو ظاہر نہیں کرنا چاہتے، جبکہ تعلیمی ادارے، ناشرین اور دیگر شعبے یہ جاننے کے لیے زیادہ مؤثر طریقے تلاش کر رہے ہیں کہ مواد انسان نے تیار کیا ہے یا مصنوعی ذہانت نے
یوں کلاڈ کا پوشیدہ واٹرمارک ایک نئی ٹیکنالوجی کی دوڑ کو جنم دے رہا ہے،ایک طرف اے آئی کمپنیاں اپنے تیار کردہ مواد کی شناخت کے لیے نئے طریقے بنا رہی ہیں اور دوسری طرف صارفین ان شناختی نشانات کو ختم کرنے کے لیے نئے اوزار تیار کر رہے ہیں،یہ مقابلہ مستقبل میں اے آئی سے تیار مواد کی اصلیت اور قابلِ اعتماد شناخت کے سوال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید