ٹرمپ کا ایران کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ کا اعلان، ایران سے کاروبار کرنے والے ممالک کو بھی بھاری معاشی نتائج کی دھمکی
واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف معاشی دباؤ کو نئی اور انتہائی سخت سطح پر لے جانے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جو بھی ملک، کمپنی یا ادارہ ایران کو مالی، تجارتی یا لاجسٹک مدد فراہم کرے گا اسے بھی سنگین معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،ٹرمپ نے اس مہم کو ’’اب تک کی سب سے زیادہ تباہ کن معاشی کارروائی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت، تیل کی خرید و فروخت، مالی لین دین اور اس سے متعلقہ نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا جائے گا
ٹرمپ کی نئی پالیسی میں خاص توجہ ایران کی تیل کی آمدنی پر ہے، کیونکہ تہران کی معیشت کے لیے تیل کی برآمدات سب سے اہم مالی ذریعہ ہیں،امریکی حکام ایران کی تیل کی غیر قانونی اسمگلنگ، مالی منتقلی کے نظام، زرِ مبادلہ کے مراکز، جہازوں کی رجسٹریشن، درمیانی کمپنیوں اور ان نیٹ ورکس کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہے ہیں جو پابندیوں کے باوجود ایران کی عالمی تجارت جاری رکھنے میں مدد دیتے ہیں
اس اقدام کا سب سے اہم پہلو ثانوی پابندیوں کا خطرہ ہے، یعنی واشنگٹن صرف ایرانی اداروں کو نہیں بلکہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے غیر ملکی اداروں اور ممکنہ طور پر ان کے ممالک کو بھی امریکی پابندیوں یا تجارتی اقدامات کی زد میں لا سکتا ہے،ٹرمپ پہلے ہی ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک پر محصولات عائد کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں، جبکہ نئی مہم میں مزید سخت اقدامات زیرِ غور ہیں
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، آبنائے ہرمز کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور ایران پر امریکی اقتصادی دباؤ پہلے ہی شدید ہے،امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ بھی نئی پابندیوں کی تیاری کا عندیہ دے چکے ہیں،متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایران کے ساتھ تجارت اور مالی لین دین معطل کرنے کا حالیہ فیصلہ بھی اس بڑھتے ہوئے دباؤ کی ایک اہم علامت ہے
ٹرمپ کا تازہ اقدام اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ واشنگٹن فی الحال ایران پر براہِ راست فوجی کارروائی کے بجائے اس کی اقتصادی زندگی کو مزید محدود کرنے کے لیے عالمی مالیاتی اور تجارتی نظام کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے،تاہم اس پالیسی کا اثر صرف ایران تک محدود رہنے کا امکان نہیں، کیونکہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک اور عالمی منڈیوں پر بھی امریکی پابندیوں، توانائی کی قیمتوں اور سپلائی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں





