28 ویں ترمیم اور نئے صوبوں کی بازگشت، مگر پاکستان کے سیاسی نقشے پر سوالات سے پہلے کشمیر کی زمین پر اٹھتا بحران
پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اسد قیصر نے موجودہ اسمبلی کی قانون سازی کی اہلیت اور سیاسی مینڈیٹ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت نئے صوبوں کے معاملے پر اپنے اتحادیوں کا اجلاس بلانے جا رہی ہے تاکہ اس معاملے پر مشترکہ مؤقف اختیار کیا جا سکے
اسد قیصر کا کہنا ہے کہ موجودہ اسمبلی کے پاس قانون سازی کا مینڈیٹ اور اختیار نہیں، جبکہ تحریک انصاف اپوزیشن کی تمام جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے،انہوں نے آزاد اور قابل قبول الیکشن کمیشن کے تحت شفاف انتخابات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بانی تحریک انصاف عمران خان سے نہ ملاقات ہو رہی ہے اور نہ ہی کوئی بات چیت ہو رہی ہے،مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اتحاد کی باتوں کو بھی انہوں نے مسترد کیا
لیکن اس بیان کی اصل اہمیت صرف تحریک انصاف کے سیاسی مؤقف تک محدود نہیں،اس وقت اسلام آباد میں ایک بار پھر 28ویں آئینی ترمیم اور نئے انتظامی یونٹوں کے قیام کی بحث تیزی سے گردش کر رہی ہے،مختلف سیاسی حلقوں میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹوں کی تجاویز زیرِبحث ہیں، جبکہ کراچی کی آئینی و انتظامی حیثیت کو وفاق سے جوڑنے کی قیاس آرائیاں بھی دوبارہ سامنے آئی ہیں،ماضی میں ایسی اطلاعات کے جواب میں سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی واضح طور پر کہہ چکی ہیں کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی کوئی تجویز قابل قبول نہیں،
تاہم ایک بنیادی حقیقت ابھی بھی برقرار ہے،28ویں ترمیم کا کوئی حتمی سرکاری مسودہ عوام کے سامنے نہیں آیا،پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے پہلے بھی کہا تھا کہ انہیں ایسا کوئی مسودہ موصول نہیں ہوا، جبکہ وفاقی وزیر قانون نے بھی کہا تھا کہ کسی آئینی ترمیم کے لیے اتحادی جماعتوں کا اتفاق ضروری ہوگا،جون میں پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیر بخاری نے بھی کہا تھا کہ ترمیم کے بارے میں کچھ بھی ’’تحریری شکل میں‘‘ سامنے نہیں آیا،
اسی لیے موجودہ سیاسی صورتحال میں اصل سوال یہ نہیں کہ 28ویں ترمیم ’’آ رہی ہے‘‘ یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اگر ایسا کوئی پیکیج واقعی تیار کیا جا رہا ہے تو اس کے لیے سیاسی اتفاق رائے کہاں سے آئے گا اور اس کا تعلق صوبائی خودمختاری، مالی اختیارات اور نئے صوبوں سے کس حد تک ہوگا،پیپلز پارٹی جو وفاق میں حکومت کی سب سے بڑی اتحادی ہے اور حکومت کے اہم ترین آئینی عہدے اسکے پاس ہیں مگر اٹھائیسویں ترمیم کے مسئلے پر پورا ملک جانتا ہے وہ اسٹیبلشمنٹ کی اس سوچ کے خلاف ہے ، صدر آصف زرداری جو ایک طرف فیلڈ مارشل کی امریکی صدر کی تعریف کو بنیاد بنا کر فیلڈ مارشل کی شان میں قصیدے پڑھتے نظر آتے ہیں تو دوسری طرف سندھ میں جہاں گزشتہ سترہ سال سے انکی پارٹی کی حکومت ہے وہاں یوم آزادی چودہ اگست کے موقع پر آصف علی زرداری کے اپنے آبائ شہر نواب شاہ سمیت مختلف شہروں میں قوم پرستوں نے قومی نغمے اور ترانے چلانے والوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے سندھی دھرتی پر پاکستان کا ترانہ نہیں بجے گا، اس صورت حال پر واقف حال کہتے ہیں آصف علی زرداری کی اسلام آباد کی پالیسی الگ ہے اور سندھ میں الگ ،اسی تناظر میں
یہ سوال ملک کے سیاسی سماجی اور صحافتی حلقوں میں زیر بحث ہے کہ ملک اس وقت غیر معمولی سیاسی اور انتظامی دباؤ سے گزر رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں بدامنی، بلوچستان میں سکیورٹی بحران، ٹرانسپورٹرز اور مختلف معاشی شعبوں کے احتجاج، جبکہ آزاد کشمیر میں گزشتہ کئی ماہ سے جاری شدید سیاسی بے چینی نے ریاستی نظام کی بنیادیں ہلا دی ہیں ایسے میں پیپلز پارٹی سے بگاڑ کچھ زیادہ ہی مہنگاپڑ سکتا ہے ، پھر ایک ایسے وقت میں کہ جب
سب سے نمایاں تضاد آزاد کشمیر میں دکھائی دیتا ہےکووہاں جھرلو انتخابات میں مسلم لیگ کو برتری دلادی گئی ،جو حکومت بنانے کی پوزیشن میں دکھائ جارہی ہے ،دوسری طرف پونچھ کے بعض علاقوں میں امن و امان کی صورتحال اتنی خراب رہی کہ انتخابات کا تیسرا مرحلہ محدود کرنا پڑا،8 اگست کو وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثناء اللہ نے بھی کہا تھا کہ پونچھ کے تمام حلقوں میں ایک ساتھ پولنگ نہیں ہو سکے گی اور باقی علاقوں میں امن و امان کے حالات کو مدنظر رکھا جائے گا،
اس بحران کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جون اور جولائی میں آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں طویل انٹرنیٹ بندش، سڑکوں کی بندش اور احتجاج کے باعث کاروبار، تعلیم، مواصلات اور انتخابی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں،میرپور میں انٹرنیٹ 48 روزہ بندش کے بعد جزوی طور پر بحال ہوا، جبکہ مظفرآباد میں بھی انٹرنیٹ کئی ہفتوں تک بند رہا
اسی ماحول میں سوشل میڈیا پر تقسیم شدہ کشمیر کے دونوں جانب کے لوگوں کی ویڈیوز کا ایک نیا سلسلہ بھی توجہ حاصل کر رہا ہے،نیلم کے پار ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں موجود لوگ ایک دوسرے کو ہاتھ ہلاتے، جھنڈے دکھاتے اور جذباتی انداز میں ایک دوسرے سے رابطے کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں،اس طرح کی ویڈیوز دراصل نئی نہیں،نیلم کے علاقے میں لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب بچھڑے خاندانوں اور مقامی آبادی کے ایک دوسرے کو دور سے دیکھنے اور ہاتھ ہلانے کی تصاویر پہلے بھی سامنے آتی رہی ہیں
لیکن موجودہ ماحول میں ان ویڈیوز کی معنویت بدل گئی ہے،پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں سیاسی بے چینی، طویل مواصلاتی بندش اور ریاستی اداروں کے خلاف مقامی شکایات کے درمیان جب دونوں جانب کے کشمیریوں کے ایک دوسرے کو ہاتھ ہلانے کی تصاویر، پرانے گیت اور جذباتی پیغامات بڑے پیمانے پر گردش کرتے ہیں تو یہ محض ایک انسانی منظر نہیں رہتا بلکہ ایک وسیع تر سیاسی اور جذباتی بیانیے کا حصہ بن جاتا ہے، ایسی ویڈیو مہمات کو سیاسی تجزیہ نگار پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے متعلق بھارت کے عزائم سے جوڑتے ہیں، اور انُہیں ڈر ہے پاکستان اور کشمیر میں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف پھیلی نفرت مایوسی کے ساتھ بڑھتی ناامیدی مودی حکومت کو کسی ایڈونچر پر نہ اکسانے لگے جو اپنے ملک میں حکومت کی گرتی ساکھ کو سہارا دینے کے لیے عوامی توجہ مبذول کرانے کے ساتھ اپنے ارادوں کی تکمیل کی خونی راہ پر نکل سکتے ہیں
اتنے سارے سیاسی تضادات و تنازعات میں ریاستی اسٹیبلشمنٹ کا طرز حکمرانی موجودہ پاکستان کے سیاسی منظرنامے کو کنفیوژ بھی کررہا ہے اور مذید پیچیدہ بھی بنا رہا ہے ، اسلام آباد میں نئے صوبوں، نئے انتظامی یونٹوں اور آئینی اختیارات کی نئی تقسیم کی بات ہو رہی ہے، جبکہ ملک کے ایک حساس خطے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ لوگوں کو سڑک، مواصلات، نمائندگی اور سیاسی آواز کب اور کیسے ملے گی
آزاد کشمیر میں ہونے والے حالیہ احتجاجوں کے بارے میں بین الاقوامی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی تشویش ظاہر کی،ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انٹرنیٹ بندش، گرفتاریوں اور طاقت کے استعمال کو خطرناک پیش رفت قرار دیا، جبکہ انسانی حقوق کمیشن پاکستان اور ایمنسٹی نے راولا کوٹ کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا
اس پس منظر میں اسد قیصر کا نئے صوبوں کے معاملے پر اتحادی جماعتوں کا اجلاس بلانے کا اعلان ایک الگ آئینی بحث نہیں بلکہ پاکستان میں طاقت، وسائل اور نمائندگی کی نئی تقسیم کے بڑے سوال کا حصہ بن جاتا ہے۔ اگر 28ویں ترمیم واقعی زیرِ غور ہے تو اس کی اصل آزمائش نئے نقشے بنانا نہیں بلکہ یہ ہوگی کہ کیا وہ صوبوں، مقامی حکومتوں اور شہریوں کے درمیان اختیارات کو واقعی نچلی سطح تک منتقل کرتی ہے یا محض مرکز اور صوبوں کے درمیان طاقت کی ایک نئی تقسیم پیدا کرتی ہے
اور شاید یہی وجہ ہے کہ آج کی پاکستانی سیاست میں 28ویں ترمیم کی افواہوں سے زیادہ اہم سوال ریاست کی انتظامی صلاحیت اور عوامی اعتماد کا ہے،ایک طرف نقشے بدلنے کی بات ہو رہی ہے، دوسری طرف ملک کے مختلف حصوں میں لوگ یہ پوچھ رہے ہیں کہ موجودہ نقشے میں انہیں بنیادی سہولتیں، نمائندگی اور تحفظ کیوں نہیں مل رہا
کشمیر میں دریا کے دونوں کناروں پر کھڑے لوگ ایک دوسرے کو ہاتھ ہلا رہے ہیں،اسلام آباد میں نئے صوبوں کے نقشے زیرِبحث ہیں،اور ان دونوں مناظر کے درمیان پاکستان کا موجودہ سیاسی بحران کھڑا ہے،مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ملک کو کتنے صوبوں میں تقسیم کیا جائے، اصل سوال یہ ہے کہ موجودہ اور نئے دونوں نظاموں میں اقتدار کس کے پاس ہوگا اور عام آدمی کی آواز کہاں سنی جائے گی





