Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

تہران کی امریکا کو سخت وارننگ، آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ بنانے کی کوشش پر سنگین نتائج کا انتباہ

تہران کی امریکا کو سخت وارننگ، آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ بنانے کی کوشش پر سنگین نتائج کا انتباہ

تہران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ بنانے کی دھمکی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسی کسی بھی کوشش کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر کسی بیرونی طاقت کا قبضہ قبول نہیں کیا جائے گا
ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے کوئی جارحانہ قدم اٹھایا تو اسے اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ایرانی قیادت نے اس معاملے کو اپنی قومی سلامتی اور خطے میں اپنے تزویراتی مفادات سے براہ راست جوڑ دیا ہے
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور خلیج فارس سے عالمی منڈیوں تک تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔ موجودہ کشیدگی کے باعث اس گزرگاہ سے بحری آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے، جس نے عالمی توانائی منڈیوں میں بھی بے یقینی پیدا کر دی ہے
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت ایران کے کنٹرول اور انتظام میں ہے۔ تہران نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جب تک امریکا اپنی بندرگاہی ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، جنگی نقصانات کا ازالہ نہیں کرتا، پابندیاں نہیں اٹھاتا اور ایرانی منجمد اثاثے بحال نہیں کرتا، اس وقت تک آبنائے ہرمز کو معمول کی تجارتی آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھولنے پر آمادگی نہیں ہوگی
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہوئے اسے مستقبل میں امریکی علاقہ بنانے کی بات کی ہے اس بیان نے پہلے سے جاری امریکا ایران کشیدگی میں ایک نیا اور انتہائی حساس تنازع پیدا کر دیا ہے
ایران اور امریکا کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہیں۔ اس سے قبل ایران اور عمان کے درمیان گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک ممکنہ سمجھوتے پر پیش رفت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، تاہم بعد کی کشیدگی نے معاملے کو دوبارہ مشکل بنا دیا
آبنائے ہرمز کے مستقبل پر جاری تنازع کا اثر صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ اگر اس اہم بحری راستے کی بندش یا محدود آمدورفت طویل عرصے تک جاری رہتی ہے تو عالمی سطح پر تیل کی رسد، ایندھن کی قیمتوں اور سمندری تجارت پر مزید دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے
ایرانی دھمکی اور امریکی مؤقف کے درمیان بڑھتا ہوا اختلاف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آبنائے ہرمز اب صرف ایک بحری گزرگاہ کا معاملہ نہیں رہی بلکہ امریکا ایران کشیدگی میں مرکزی تزویراتی مسئلہ بن چکی ہے

قومی خبریں سے مزید