مودی کی یومِ آزادی تقریر: خواب بیچے یا عزم کا اعلان ، نوجوانوں کو اے آئی اور مفت کوچنگ کی پیشکش، مگر جن زی کے اصل سوال اب بھی بے جواب؟
نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی کی یومِ آزادی تقریر کا ایک بڑا سیاسی محور بھارت کی نوجوان آبادی رہی، لیکن اس خطاب کو حالیہ جن زی احتجاجوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس میں حکومت کی جانب سے نوجوانوں کو براہِ راست مخاطب کرنے اور ایک ناراض نسل کو دوبارہ اپنے ساتھ جوڑنے کی واضح کوشش نظر آتی ہے
مودی نے لال قلعے سے اعلان کیا کہ نوجوانوں کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا انتظام کیا جائے گا اور ایک سال میں 1 کروڑ نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت کی تربیت دی جائے گی،انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے پھیلاؤ کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ گزشتہ 10 سے 12 برس میں تقریباً 650 نئی جامعات قائم ہوئی ہیں، جس سے ملک میں جامعات کی تعداد تقریباً 1,000 ہو گئی ہے
لیکن یہ اعلانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بھارت کے نوجوانوں کا ایک بڑا حصہ محض نئی تربیتی اسکیموں کا نہیں بلکہ امتحانات کی شفافیت، سرکاری ملازمتوں، بے روزگاری اور حکومتی جواب دہی کا مطالبہ کر رہا ہے
گزشتہ چند ہفتوں کے جن زی احتجاجوں نے نئی دہلی سمیت بھارت کے کئی شہروں میں سیاسی ماحول تبدیل کیا، ان کا فوری سبب امتحانی بے ضابطگیاں اور مبینہ پرچہ لیک تھے،دہلی میں احتجاجی تحریک نے تعلیم کے وزیر دھرمندر پردھان کے استعفے تک سیاسی دباؤ پیدا کیا، جبکہ جھارکھنڈ میں بھی ہزاروں نوجوان سرکاری ملازمتوں کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے
یہاں مودی حکومت کے لیے مسئلہ صرف یہ نہیں کہ نوجوانوں کو اے آئی سکھایا جائے،احتجاجی نوجوانوں کے بیانات سے جو بنیادی تشویش سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ اگر امتحان ہی شفاف نہیں، بھرتی کا نظام قابلِ اعتماد نہیں اور لاکھوں امیدوار چند سو ملازمتوں کے لیے مقابلہ کر رہے ہوں تو نئی مہارتیں بھی فوری طور پر مسئلے کا حل نہیں بنتیں
وال اسٹریٹ جرنل کی حالیہ رپورٹ نے اسی بحران کی ایک مثال پیش کی،جھارکھنڈ میں 5 لاکھ سے زیادہ امیدوار صرف 583 سرکاری ملازمتوں کے لیے مقابلہ کر رہے تھے،رپورٹ کے مطابق بھارت میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود معیاری روزگار تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے
اسی لیے مودی کا مفت کوچنگ اور اے آئی تربیت کا اعلان نوجوانوں کے ایک طبقے کے لیے پرکشش ہو سکتا ہے، لیکن یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا حکومت نے مسئلے کی علامت کو مخاطب کیا ہے یا اس کی بنیادی وجہ کو؟
یہاں تقریر کا سب سے اہم سیاسی پہلو سامنے آتا ہے
رائٹرز نے چند روز قبل رپورٹ کیا تھا کہ جن زی احتجاجوں کے بعد مودی نے نوجوان ووٹروں تک پہنچنے کے لیے انسٹاگرام پر اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور زیادہ غیر رسمی، نوجوان دوست انداز میں ویڈیوز جاری کیں،رائٹرز کے مطابق حالیہ احتجاجوں نے روزگار اور تعلیم کے مواقع کی کمی کے بارے میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی بے چینی کو نمایاں کیا ہے
یہ تبدیلی محض ابلاغی حکمت عملی نہیں،گزشتہ ایک دہائی سے مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے سماجی ذرائع ابلاغ پر غیر معمولی مضبوط موجودگی قائم کی تھی، لیکن حالیہ جن زی تحریک نے اسی میدان میں حکومت کو چیلنج کیا ہے،الجزیرہ کے ایک تجزیے کے مطابق نوجوانوں نے انہی پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے مودی حکومت کے خلاف اپنی مہم کو بڑے پیمانے پر پھیلایا
ٹائم میگزین نے بھی حالیہ احتجاجوں کو ایسی نوجوان مزاحمت قرار دیا جس نے مودی کی سیاسی گرفت اور ان کی ’’ناقابلِ شکست‘‘ شبیہ کو نقصان پہنچایا اور بالآخر تعلیم کے وزیر کے استعفے تک معاملہ پہنچا
مودی کی تقریر میں دوسرا نمایاں پہلو ’’دماغی نکسل‘‘ کی اصطلاح تھی
مودی نے کہا کہ مسلح نکسل باغیوں سے نمٹنے کے بعد اب ایسے ’’دماغی نکسل‘‘ عناصر کی شناخت اور انہیں الگ کرنے کی ضرورت ہے جو ان کے بقول نظریاتی طور پر نکسل ازم کو فروغ دیتے ہیں
یہاں سیاسی تجزیے کا رخ یکسر بدل جاتا ہے
نوجوانوں کے لیے اے آئی، کوچنگ، تعلیم اور روزگار کے مواقع کا وعدہ مثبت اور ترقیاتی پیغام ہے، لیکن ’’دماغی نکسل‘‘ جیسی اصطلاح ایک وسیع اور مبہم سیاسی دائرہ پیدا کرتی ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ حکومت کن لوگوں کو اس اصطلاح کے تحت رکھے گی،مسلح باغی، ان کے نظریاتی حامی، یا محض حکومت کی پالیسیوں کے ناقد؟
اسی لیے اس حصے کو بعض مبصرین کے لیے محض داخلی سلامتی کا بیان نہیں بلکہ سیاسی اختلاف کی حدود متعین کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے،یہاں کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے بھارتی وزیراعظم نے نکسل کا علامتی لفظ جنتر منتر پر بیٹھ کر بھوک ہڑتال کرنے والے لداخ کے تعلیمی ماہر سونم وائچنگ جنہوں نے چھبیس روز تک بھوک ہڑتال کی اور انکے ساتھ بیٹھے نہا بورا جیسی نوجوان بھی ہیں جو ایک سیکولر ماڈرن خیالات کی آر ایس ایس ہندو انتہا پسندی کے خلاف ایک بڑی آواز بنتی جارہی ہیں اور جو ان دنوں بھارت کے متعدد کلکتہ سمیت شہروں کے دورے پر نوجوانوں سے مل رہی ہیں اور انکی ملک گیر یاترا اور طلبا تنظیموں اور متحرک نوجواں سے ملاقاتوں سے سمجھا جارہا ہے وہ کسی ملک گیر پلیٹ فارم کے لیے کوششوں میں مصروف ہیں جو آگے چلکر مودی حکومت کے لیے بڑا سیاسی مسئلہ پیدا کرسکتی ہیں
’’سپت دھارا‘‘ اور مودی کا نیا ترقیاتی بیانیہ
مودی نے سپت دھارا یعنی سات نکاتی ترقیاتی خاکے کو بھی تقریر میں نمایاں کیا،اس کا بنیادی مقصد بھارت کو 2047 تک ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے مختلف شعبوں میں ترقی کو ایک جامع منصوبے سے جوڑنا ہے،ٹائمز آف انڈیا نے تقریر کے اس حصے کو قومی یکجہتی، ٹیکنالوجی اور پائیدار ترقی کے ساتھ جوڑتے ہوئے نمایاں کیا ہے
یہاں بھی مودی کا سیاسی پیغام واضح ہے،وہ نوجوانوں کو صرف احتجاج کرنے والی نسل کے طور پر نہیں بلکہ 2047 کے بھارت کی تعمیر کرنے والی نسل کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں
لیکن جن زی احتجاج کے پس منظر میں یہ سوال بدستور موجود ہے کہ نوجوان مستقبل کی بڑی تصویر سے پہلے آج کی نوکری اور آج کے امتحان کے بارے میں جواب چاہتے ہیں
احتجاجی نوجوانوں کی طرف سے سب سے بڑا سوال
دلچسپ بات یہ ہے کہ خود جن زی تحریک کے نمائندوں نے مودی سے پہلے ہی مطالبہ کیا تھا کہ وہ یومِ آزادی پر براہِ راست نوجوانوں سے خطاب کریں اور بتائیں کہ حکومت ان کے مستقبل کے لیے کیا کر رہی ہے۔ ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے مودی سے یہی مطالبہ کیا تھا کہ نوجوانوں کے مسائل اور حکومت کے اقدامات پر واضح جواب دیا جائے
اس لحاظ سے مودی کی تقریر کو نوجوان احتجاج کا سیاسی جواب بھی سمجھا جا سکتا ہے
مودی نے نوجوانوں کو وہ چیزیں پیش کیں جن کی ایک بڑی تعداد کو ضرورت ہے،مفت کوچنگ، اے آئی مہارتیں، اعلیٰ تعلیم کی توسیع اور مستقبل کی ٹیکنالوجی،لیکن احتجاجی نوجوانوں کا بنیادی سوال زیادہ بنیادی ہے
کیا حکومت انہیں منصفانہ امتحان، شفاف بھرتی اور قابلِ اعتماد روزگار بھی دے سکتی ہے؟
دستیاب شواہد کو یکجا کیا جائے تو مودی کی تقریر میں دو متوازی پیغامات نظر آتے ہیں
پہلا پیغام نوجوانوں کو اپنی طرف واپس لانے کا ترقیاتی وعدہ ہے،اے آئی، مفت کوچنگ، تعلیم، ہنرمندی اور 2047 کا ترقی یافتہ بھارت
دوسرا پیغام ریاستی اختیار اور نظریاتی نظم کا ہے،نکسل ازم کے خلاف کارروائی اور ’’دماغی نکسل‘‘ کو الگ کرنے کی بات
یہ امتزاج اتفاقی معلوم نہیں ہوتا،حالیہ جن زی احتجاجوں نے حکومت کو یہ احساس دلایا کہ نئی نسل روایتی سیاسی نعروں سے زیادہ مواقع، شفافیت اور جواب دہی چاہتی ہے، ان کے بعد مودی نے اپنی تقریر میں نوجوانوں کو براہِ راست معاشی مستقبل کا وعدہ دیا ہے،رائٹرز کی رپورٹ بھی اسی وسیع تر حکمت عملی کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ حکومت نوجوان ووٹروں تک پہنچنے کے لیے اپنا ابلاغی انداز تبدیل کر رہی ہے
اصل امتحان اب تقریر نہیں بلکہ عمل ہے
اگر 1 کروڑ نوجوانوں کی اے آئی تربیت واقعی بڑے پیمانے پر روزگار، کاروبار اور آمدنی کے مواقع پیدا کرتی ہے، اور مفت کوچنگ سے غریب اور متوسط طبقے کے نوجوانوں کو منصفانہ مقابلے کا حقیقی موقع ملتا ہے، تو مودی کا آج کا خطاب نوجوانوں کے ساتھ تعلق بحال کرنے میں اہم ثابت ہو سکتا ہے
لیکن اگر امتحانی پرچوں کے لیک، سرکاری ملازمتوں کی قلت، بے روزگاری اور بھرتی کے نظام پر اعتماد کا بحران برقرار رہتا ہے تو اے آئی کی تربیت اور ’’سپت دھارا‘‘ جیسے بڑے اعلانات شاید اس بنیادی بے چینی کو ختم نہ کر سکیں جس نے بھارت کی جن زی کو پہلی مرتبہ اتنی بڑی تعداد میں سڑکوں پر لا کھڑا کیا
یہی دراصل مودی کی آج کی تقریر کا سب سے بڑا سیاسی سوال ہے،کیا وہ نوجوانوں کو صرف ایک نیا خواب دے رہے ہیں، یا اس نظام کو بھی تبدیل کر رہے ہیں جس کے خلاف نوجوان پہلے ہی احتجاج کر چکے ہیں





