پاکستان میں مہنگائی کی شرح 9.11 فیصد تک پہنچ گئی، اشیائے ضروریہ مزید مہنگی
اسلام آباد: پاکستان میں ہفتہ وار مہنگائی میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور 13 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح 9.11 فیصد تک پہنچ گئی
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حساس قیمتوں کے اشاریے میں گزشتہ سال کے اسی ہفتے کے مقابلے میں 9.11 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ایک ہفتے کے دوران بھی مہنگائی میں 0.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا
مہنگائی میں اضافے کی بڑی وجہ روزمرہ استعمال کی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بتایا گیا ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں تبدیلی کے باعث نقل و حمل کے اخراجات بڑھے، جس کے اثرات ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر بھی پڑے
سالانہ بنیاد پر ٹماٹر کی قیمت میں 143.77 فیصد، پیاز میں 125.75 فیصد اور گندم کے آٹے میں 77.41 فیصد اضافہ ہوا۔ ایل پی جی کی قیمت 55.41 فیصد، ڈیزل 34.05 فیصد اور پٹرول 23.02 فیصد مہنگا ہوا
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پیاز کی قیمت میں سب سے زیادہ 24.68 فیصد اضافہ ہوا۔ دال چنا 3.35 فیصد، مرغی 2.45 فیصد اور ایل پی جی 0.67 فیصد مہنگی ہوئی
دوسری جانب بعض اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی ہوئی۔ پٹرول 2.35 فیصد، ٹماٹر 1.26 فیصد اور آلو 0.73 فیصد سستے ہوئے
اعداد و شمار کے مطابق ہفتہ وار مہنگائی مسلسل 70ویں ہفتے میں بھی بڑھی ہے۔ قیمتوں کا یہ اشاریہ 17 شہروں کی 50 منڈیوں سے 51 ضروری اشیاء کی قیمتیں جمع کرکے تیار کیا جاتا ہے۔





