آبنائے ہرمز کی بندش نے کویت کے تیل کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا

آبنائے ہرمز کی بندش نے کویت کے تیل کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا

کویت: خلیج میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں رکاوٹ نے کویت کے تیل کے شعبے کو کئی ماہ سے شدید بحران سے دوچار کر رکھا ہے۔ کویت کی معیشت کا انحصار بڑی حد تک تیل کی آمدنی پر ہے اور موجودہ صورتحال نے ملک کے لیے کئی دہائیوں کا سب سے بڑا تیل بحران پیدا کر دیا ہے
کویت کی حکومت کی 90 فیصد سے زیادہ آمدنی اور تقریباً تمام برآمدی آمدنی خام تیل کی فروخت سے حاصل ہوتی ہے۔ ملک کے پاس دنیا کے مجموعی تیل کے ذخائر کا تقریباً 6 فیصد موجود ہے، جس کے باعث تیل کی برآمدات میں رکاوٹ پوری معیشت کے لیے سنگین مسئلہ بن گئی ہے
کویت کے لیے صورتحال سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہے کیونکہ کویت کے پاس آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر تیل برآمد کرنے کے لیے ایسے پائپ لائن راستے موجود نہیں جو اس اہم سمندری گزرگاہ کا متبادل بن سکیں
جنگ شروع ہونے کے چند ہی دن بعد کویت پٹرولیم کارپوریشن نے اپنے معاہدوں کی ذمہ داریاں پوری نہ کر سکنے کے باعث ہنگامی قانونی شق نافذ کر دی تھی، جسے جون میں ختم کیا گیا۔ اس دوران ایرانی حملوں میں پانی صاف کرنے کے مراکز، توانائی کی تنصیبات اور تیل سے متعلق بنیادی ڈھانچے بھی متاثر ہوئے
جنگ سے پہلے کویت روزانہ 26 لاکھ بیرل سے کچھ زیادہ تیل پیدا کر رہا تھا اور اس نے 2040 تک پیداوار کو بڑھا کر 40 لاکھ بیرل روزانہ تک پہنچانے کا منصوبہ بنایا ہوا تھا
کویت پٹرولیم کارپوریشن کے سربراہ کے مطابق اگر آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جاتی ہے اور تیل کی آزادانہ نقل و حرکت بحال ہوتی ہے تو کویت جنگ سے پہلے کی پیداوار پر واپس جانے کے ساتھ اس سے بھی زیادہ پیداوار حاصل کر سکتا ہے
تاہم جب تک آبنائے ہرمز میں صورتحال معمول پر نہیں آتی، کویت کی تیل کی برآمدات اور اس کی پوری معیشت غیر یقینی صورتحال سے دوچار رہنے کا خدشہ ہے۔

قومی خبریں سے مزید