وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کو تقریباً 1100 صومالی باشندوں کا عارضی تحفظ ختم کرنے کی اجازت دے دی
واشنگٹن: میساچوسٹس کی وفاقی جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو امریکا میں مقیم تقریباً 1100 صومالی باشندوں کو ملک بدری سے حاصل عارضی قانونی تحفظ ختم کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے
بوسٹن کی امریکی ڈسٹرکٹ جج ایلیسن بروز نے محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کو صومالیہ کے لیے عارضی محفوظ حیثیت ختم کرنے کی اجازت دے دی،یہ تحفظ صومالی شہریوں کو امریکا میں قانونی طور پر رہنے اور کام کرنے کے ساتھ ملک بدری سے عارضی تحفظ فراہم کرتا تھا
یہ فیصلہ جون میں امریکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ٹرمپ انتظامیہ کو ہیٹی اور شام کے ہزاروں شہریوں کے لیے اسی نوعیت کا تحفظ ختم کرنے کی اجازت دی گئی تھی،سپریم کورٹ کے فیصلے نے محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی جانب سے عارضی محفوظ حیثیت ختم کرنے کے فیصلوں کے خلاف عدالتی مداخلت کی گنجائش محدود کر دی تھی
ٹرمپ انتظامیہ نے جنوری میں صومالیہ کی عارضی محفوظ حیثیت ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ملک کے حالات میں اتنی بہتری آ چکی ہے کہ وہ اس تحفظ کے قانونی معیار پر پورا نہیں اترتا،تاہم صومالیہ میں اب بھی حکومتی فورسز اور الشباب کے درمیان لڑائی جاری ہے
جج بروز نے اس سے قبل مارچ میں اس فیصلے پر عارضی طور پر روک لگا دی تھی، جس کے بعد متاثرہ صومالی باشندوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے یا گرفتاری اور ملک بدری کے خطرے کا سامنا نہیں رہاتھا،تاہم سپریم کورٹ کے بعد کی پیش رفت کے تناظر میں جج نے جمعہ کو یہ راستہ کھول دیا
متاثرہ افراد اور ان کی نمائندگی کرنے والی تنظیموں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ تحفظ ختم کرنے سے انہیں ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے اور بعض نے انتظامیہ کے فیصلے میں نسلی تعصب کا الزام بھی عائد کیا تھا،جج نے تسلیم کیا کہ متاثرین کو شدید نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم ان کے خیال میں مقدمہ جیتنے کے امکانات اتنے مضبوط نہیں کہ حکومتی فیصلے پر پابندی برقرار رکھی جائے
صومالیہ کو عارضی محفوظ حیثیت پہلی مرتبہ 1991 میں دی گئی تھی،تازہ عدالتی فیصلے کے بعد امریکا میں موجود وہ صومالی باشندے جو اسی حیثیت کے تحت قانونی تحفظ حاصل کیے ہوئے تھے، اب گرفتاری اور ملک بدری کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں





