زکربرگ کے مصنوعی ذہانت کے منشور کی 5 اہم باتیں
1۔ ’’ذاتی سپر انٹیلی جنس‘‘ ہر فرد تک پہنچانے کا منصوبہ
زکربرگ کا بنیادی تصور یہ ہے کہ انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت صرف بڑی ٹیک کمپنیوں، حکومتوں یا اداروں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہر فرد کو اپنی ذاتی ’’سپر انٹیلی جنس‘‘ دستیاب ہونی چاہیے، جو تعلیم، کام، تخلیقی صلاحیت اور روزمرہ زندگی میں مدد دے
2۔ میٹا کھلے وزن والے اے آئی ماڈلز کی حمایت جاری رکھے گی
زکربرگ نے بند اور مکمل طور پر ملکیتی مصنوعی ذہانت کے بجائے زیادہ کھلے ماڈلز کی حمایت کی ہے،میٹا نے اسی پالیسی کے تحت نیا میوز گلیمر ماڈل بھی متعارف کرایا ہے
3۔ زکربرگ کے مطابق اے آئی ملازمتیں ختم کرنے کے بجائے کاروبار کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے
ان کے خیال میں مستقبل میں بعض کمپنیوں کا حجم کم ہو سکتا ہے ،کیونکہ چھوٹی ٹیمیں مصنوعی ذہانت کی مدد سے بڑے کاروبار چلا سکیں گی،ان کا دعویٰ ہے کہ اس کے نتیجے میں نئے کاروبار، تخلیقی کام اور کاروباری مواقع بڑھ سکتے ہیں
4۔ حکومت کو اے آئی کی ترقی میں شروع ہی سے شامل ہونا چاہیے
زکربرگ نے امریکی حکومت کے ساتھ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ابتدائی مراحل میں تعاون کی حمایت کی ہے،ان کا مؤقف ہے کہ حکومت کو ماڈل مکمل تیار ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے ترقی کے دوران ہی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔
5۔ اصل طاقت اس بات میں ہے کہ اے آئی کے ’’اصول‘‘ کون طے کرتا ہے
منشور کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ لوگوں کو اپنی ذاتی مصنوعی ذہانت کے استعمال، اقدار اور رازداری پر زیادہ اختیار ملنا چاہیے۔ زکربرگ خبردار کرتے ہیں کہ اگر انتہائی طاقتور اے آئی چند حکومتوں یا بڑی کمپنیوں کے ہاتھ میں مرکوز ہو گئی تو طاقت کا توازن بڑے اداروں کے حق میں جا سکتا ہے
مختصراً،زکربرگ کا منشور صرف ایک نئی اے آئی مصنوعات کا اعلان نہیں بلکہ یہ دلیل پیش کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی اگلی نسل کا مرکز ادارے نہیں بلکہ فرد ہونا چاہیے،تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ میٹا خود ایک بہت بڑی ٹیکنالوجی کمپنی ہے، اس لیے ’’طاقت عوام کے ہاتھ میں دینے‘‘ کے اس دعوے میں ایک بنیادی تضاد بھی موجود ہے





