حسن پائیکر اور سوشلزم سے تعلق توڑنا ڈیموکریٹس کے لیے اب بہت دیر ہو چکی ہے، فاکس نیوز
واشنگٹن: فاکس نیوز کے کالم نگار ڈیوڈ مارکس نے دعویٰ کیا ہے کہ وسکونسن کے ڈیموکریٹک گورنر پرائمری میں نسبتاً معتدل امیدوار کے ہاتھوں فرانسسکا ہونگ کی شکست کے باوجود ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے سوشلزم سے جڑی سیاست سے خود کو الگ کرنا آسان نہیں ہوگا
مارکس کے مطابق وسکونسن میں منگل کی رات ہونے والے ڈیموکریٹک پرائمری میں فرانسسکا ہونگ، جنہیں بائیں بازو کے معروف تبصرہ نگار حسن پائیکر کی حمایت حاصل تھی، ڈیوڈ کرولی سے ہار گئیں۔ ان کے نزدیک یہ ڈیموکریٹس کے لیے ایک محدود کامیابی ضرور ہے، لیکن پارٹی کے اندر سوشلزم کے مسئلے کو ختم نہیں کرتی
کالم نگار نے انتخابی جائزوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وسکونسن کے پرائمری انتخابات سے قبل تقریباً تمام جائزوں میں ہونگ کو 15 فیصد سے زیادہ کی برتری حاصل دکھائی گئی تھی، مگر انتخابی نتیجہ اس کے برعکس نکلا
مارکس نے مشی گن کے حالیہ ڈیموکریٹک پرائمری کا حوالہ دیتے ہوئے بھی کہا کہ وہاں بھی انتخابی جائزے حتمی نتائج کی درست پیش گوئی کرنے میں ناکام رہے تھے
کالم کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ ہونگ کی شکست کو ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بائیں بازو اور سوشلسٹ سیاست کی پسپائی سمجھنا قبل از وقت ہوگا اور پارٹی کو آئندہ انتخابات میں اس سیاسی رجحان کے اثرات کا سامنا بدستور رہے گا





