بچوں کے ای بائیک حادثات میں اضافے پر والدین بھی قانونی گرفت میں، امریکی ریاستوں میں سخت اقدامات شروع

بچوں کے ای بائیک حادثات میں اضافے پر والدین بھی قانونی گرفت میں، امریکی ریاستوں میں سخت اقدامات شروع

نیویارک: امریکا میں ای بائیکس اور دیگر برقی سواریوں کے حادثات میں بچوں کے زخمی اور ہلاک ہونے کے واقعات میں اضافے کے بعد حکام اس سوال پر غور کر رہے ہیں کہ کم عمر بچوں کو ایسی سواریوں کی اجازت دینے پر والدین کو بھی قانونی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے یا نہیں
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق کیلیفورنیا میں ایک سرکاری وکیل نے بعض کم عمر ای بائیک سواروں کے والدین کے خلاف فوجداری مقدمات چلانے کا اقدام شروع کیا ہے،یہ ملک بھر میں حکام کی جانب سے بچوں کو تیز رفتار برقی سائیکلوں اور اسکوٹروں سے لاحق بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کی کوششوں میں ایک نسبتاً سخت طریقہ ہے
امریکا میں اس حوالے سے قوانین اور ضوابط یکساں نہیں، جس کے باعث والدین کو مختلف شہروں اور ریاستوں میں الگ الگ قوانین اور رہنمائی کا سامنا ہے،بعض مقامات پر یہ بھی واضح نہیں کہ مارکیٹ میں ای بائیک کے نام سے فروخت ہونے والی کون سی تیز رفتار برقی سواری قانونی طور پر سڑکوں پر چلائی جا سکتی ہے
نیویارک شہر میں بھی حکام نے حال ہی میں درجنوں آن لائن خوردہ فروشوں کو ایسے مصنوعات کی فروخت روکنے کے لیے قانونی نوٹس جاری کیے جنہیں ’’ای بائیکس‘‘ کے طور پر فروخت کیا جا رہا تھا، لیکن وہ سڑکوں پر چلانے کے لیے قانونی معیار پر پورا نہیں اترتیں،یہ اقدام ایک 17 سالہ نوجوان کی غیر قانونی برقی سواری پر حادثے میں ہلاکت کے بعد کیا گیا
قریب ہی واقع ریاست نیو جرسی نے بھی ای بائیک کے استعمال سے متعلق نئے ضوابط نافذ کیے ہیں، جن کے تحت ای بائیک چلانے والے کی عمر کم از کم 15 سال ہونا، لائسنس حاصل کرنا اور سواری کی رجسٹریشن کرانا ضروری قرار دیا گیا ہے
حکام اور ماہرین کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ بچوں کو برقی سواریوں کی سہولت اور آزادی فراہم کرتے ہوئے انہیں ایسی تیز رفتار مشینوں سے کیسے محفوظ رکھا جائے جو روایتی سائیکلوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ رفتار حاصل کر سکتی ہیں،اسی تناظر میں والدین کی ذمہ داری، فروخت کنندگان کی نگرانی اور کم عمر سواروں کے لیے عمر کی حد مقرر کرنے کے سوالات اب امریکی سطح پر زیادہ اہمیت اختیار کر رہے ہیں

قومی خبریں سے مزید