کینیڈا امریکا تجارتی مذاکرات میں شراب بھی اہم مسئلہ بن گئی

کینیڈا امریکا تجارتی مذاکرات میں شراب بھی اہم مسئلہ بن گئی

اوٹاوا/واشنگٹن — کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان ٹیرف کے تنازع کے ساتھ ساتھ امریکی شراب کی کینیڈین مارکیٹ تک رسائی بھی اہم معاملہ بن گئی ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر مزید 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی کے بعد اوٹاوا واشنگٹن کے ساتھ مسلسل مذاکرات کر رہا ہے۔ نئے ممکنہ ٹیرف کا اطلاق 19 اگست سے ہونے کی بات کی گئی ہے اور اس کا اثر تقریباً 20 ارب امریکی ڈالر کی کینیڈین درآمدات پر پڑ سکتا ہے
کینیڈا کے متعدد صوبوں نے امریکا کی جانب سے ٹیرف عائد کیے جانے کے جواب میں امریکی شراب کو اپنے سرکاری liquor stores سے ہٹا دیا تھا۔ امریکا ان اقدامات کو اپنی مصنوعات کے ساتھ امتیازی سلوک قرار دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ کینیڈا ان پابندیوں میں نرمی کرے
مذاکرات میں اب یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ اگر امریکا کینیڈین مصنوعات پر ٹیرف کم کرتا ہے تو کیا کینیڈا بھی امریکی شراب سمیت بعض تجارتی پابندیوں میں نرمی کرے گا
کینیڈین حکام واشنگٹن کے ساتھ ایک ایسے معاہدے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں کینیڈا کو امریکی ٹیرف میں نمایاں ریلیف مل سکے۔ تاہم، حالیہ امریکی پیشکش پر کینیڈین حکام مکمل طور پر مطمئن نہیں ہیں۔
دوسری جانب، تازہ اطلاعات کے مطابق دونوں ملک اب بھی 19 اگست کی ڈیڈ لائن سے پہلے کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے سنجیدہ مذاکرات کر رہے ہیں اور کینیڈین حکام کا کہنا ہے کہ امریکا بھی معاہدہ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے
اگر وفاقی حکومت اور امریکا کے درمیان کوئی سمجھوتہ ہوجاتا ہے تو بھی اونٹاریو میں امریکی شراب کی فوری واپسی لازمی نہیں، کیونکہ شراب کی صوبائی فروخت اور LCBO جیسے نظام صوبائی اختیار میں آتے ہیں۔
اس لیے اصل سوال یہ ہے کہ اگر اوٹاوا امریکی شراب کی پابندی ختم کرنے پر رضامند ہوتا ہے تو اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ اس فیصلے پر عمل کریں گے یا نہیں

قومی خبریں سے مزید