جج اپنے فیصلوں پر عمل نہیں کرا سکتے، وزیر اعظم فیصلے اوپر سے پوچھ کر کرتا ہے تو عدالتیں اور اسمبلیاں بند ہونی چاہئیں، سہیل آفریدی
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے حکومت اور ریاستی اداروں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عدالتیں اپنے احکامات پر عمل درآمد نہیں کرا سکتیں، وزیر اعظم اپنے فیصلوں کے لیے اوپر سے ہدایات کا انتظار کرتا ہے اور سرکاری ادارے بھی کسی ’’اوپر‘‘ سے آنے والے حکم کے منتظر رہتے ہیں تو ایسے نظام کی ضرورت نہیں رہتی۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ ایک بار پھر عمران خان سے ملاقات کے لیے جیل پہنچے تھے، لیکن انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق ان کے پاس 3 ججوں کے عدالتی احکامات موجود ہیں جن میں ملاقات کی اجازت دی گئی تھی، تاہم ان کا الزام ہے کہ یہ احکامات ہر منگل اور جمعرات کو نظر انداز کردیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی احکامات پر عمل نہ ہونے کے خلاف پی ٹی آئی کے وکلا نے توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کر رکھی ہے، لیکن اس کی سماعت بھی نہیں ہورہی۔ ان کے بقول جب آئینی اور قانونی راستے اختیار کرنے کے باوجود شنوائی نہ ہو تو آئین عوام کو پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر ججز اپنے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کراسکتے تو عدالتیں بند ہونی چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پارلیمانی نظام میں وزیر اعظم کو بھی فیصلوں کے لیے کہیں اور سے اجازت یا ہدایت درکار ہے تو پارلیمنٹ کی ضرورت بھی باقی نہیں رہتی۔ انہوں نے سرکاری اداروں کے بارے میں بھی کہا کہ اگر وہ اپنے فیصلے خود کرنے کے بجائے ’’اوپر سے چٹ‘‘ یا حکم کے منتظر رہتے ہیں تو ایسے تمام ادارے بند کردیے جانے چاہئیں۔
پی ٹی آئی رہنما نے ملک کی معاشی اور سیاسی صورتحال کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پاکستان کا نظام خود حکومتی حلقوں کے اعتراف کے مطابق بحران کا شکار ہے۔ ان کے مطابق مزدور، کسان، صنعت کار اور نوجوان سب اپنے مستقبل کے حوالے سے پریشان ہیں اور نوجوانوں کو آگے کوئی واضح راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔
سہیل آفریدی نے موجودہ حکومت اور اس کے قیام کے پس منظر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ 9 اپریل 2022 کے بعد بنائی جانے والی پالیسیوں، جن میں حکومت کی تبدیلی، دہشت گردوں کی واپسی اور دیگر اقدامات شامل ہیں، نے ملک کو مزید بحران سے دوچار کیا۔ ان کے یہ دعوے سیاسی نوعیت کے ہیں اور حکومت اور ریاستی ادارے ماضی میں ایسے الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے عمران خان کی رہائی کو پاکستان کے سیاسی مستقبل سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں عمران خان ہی ملک میں اداروں کے احترام، وفاقی یکجہتی اور سیاسی استحکام کو بحال کرسکتے ہیں۔ انہوں نے عمران خان کی قید کو بھی غیر قانونی قرار دیا، تاہم یہ ان کا سیاسی مؤقف ہے اور عمران خان کے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت یا عدالتی فیصلوں کے تابع ہیں۔
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ پی ٹی آئی 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب بڑا احتجاجی مارچ کرے گی۔ ان کے مطابق احتجاج ملک کے مختلف حصوں سے شروع ہوگا اور اس کا اختتام اسلام آباد میں ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس مارچ میں 20 لاکھ سے زیادہ نوجوان شرکت کریں گے۔
صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ احتجاج کی تاریخ نسبتاً دور رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ پارٹی کو بعض انتظامات مکمل کرنے ہیں۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ 27 ستمبر تک دوسری بحثوں میں الجھنے کے بجائے مارچ پر توجہ مرکوز رکھیں۔
مذاکرات کے بارے میں سوال پر سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر حکومت سنجیدگی سے بات چیت کرنا چاہتی ہے تو مذاکرات ہوسکتے ہیں، لیکن عمران خان کی بہنوں اور پی ٹی آئی کے منتخب نمائندوں کے ساتھ حکومتی رویے کو انہوں نے غیر سنجیدہ قرار دیا۔ ان کا الزام تھا کہ حکومت عمران خان سے خوفزدہ ہے اور نہیں چاہتی کہ پارٹی کے رہنماؤں یا خاندان کو ان سے ملاقات کا موقع ملے۔
انہوں نے کہا کہ اگر عدالتیں عمران خان کے حق میں فیصلہ دیتی ہیں اور انہیں بے قصور قرار دیا جاتا ہے تو ان کے بقول موجودہ حکمرانوں کے لیے سیاسی صورتحال یکسر بدل جائے گی۔
سہیل آفریدی نے پنجاب میں بھی بڑے پیمانے پر عوامی شرکت کی توقع ظاہر کی اور کہا کہ پنجاب پہلے بھی عمران خان کے حق میں نکلا تھا۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کی عمران خان رہائی تحریک میں رکنیت کے حوالے سے بھی پنجاب سب سے آگے ہے۔
اڈیالہ جیل کے باہر ان کی گفتگو کا بنیادی پیغام یہی تھا کہ اگر عدالت کا حکم نافذ نہیں ہوسکتا، پارلیمنٹ خودمختار فیصلہ نہیں کرسکتی اور ریاستی ادارے ’’اوپر‘‘ سے ہدایت کے بغیر کام نہیں کرتے تو موجودہ سیاسی و آئینی نظام کی بنیاد ہی سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ تاہم ان کا 27 ستمبر کا اعلان اور 20 لاکھ افراد جمع کرنے کا دعویٰ فی الحال ایک سیاسی اعلان اور ہدف ہے، اس کی کامیابی کا انحصار آئندہ ہفتوں میں پارٹی کی تنظیمی تیاری اور عوامی ردعمل پر ہوگا





