طالبان کی حمایت سے ٹی ٹی پی کے پاکستان میں حملے مزید خطرناک ہوگئے، اقوام متحدہ

طالبان کی حمایت سے ٹی ٹی پی کے پاکستان میں حملے مزید خطرناک ہوگئے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان حکام کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کو زیادہ آزادی اور حمایت ملنے کے نتیجے میں پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ان حملوں کی شدت نے خطے میں کشیدگی بھی بڑھا دی ہے
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی افغانستان میں موجود سب سے بڑے دہشت گرد گروہوں میں شامل ہے۔ تنظیم کی جانب سے پاکستانی سکیورٹی فورسز اور ریاستی اداروں کے خلاف کیے جانے والے حملے پہلے کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ہوگئے ہیں اور بعض کارروائیوں میں بڑی تعداد میں جنگجوؤں نے حصہ لیا
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان حکام ٹی ٹی پی کو افغانستان میں کام کرنے کی زیادہ آزادی دے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں اور ان کے سرحد پار اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے
اقوام متحدہ کی ایک سابقہ رپورٹ میں بھی کہا گیا تھا کہ طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کی قیادت کو افغانستان میں پناہ دینے اور اس کی کارروائیوں میں سہولت فراہم کرنے کے باعث پاکستان اور افغانستان کے تعلقات انتہائی نازک صورتحال سے دوچار ہوئے
رپورٹ کے مطابق 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں سرحد پار دہشت گردی میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے رہے۔ ٹی ٹی پی نے زیادہ تر پاکستانی فوجی اور ریاستی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے
اقوام متحدہ نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ ٹی ٹی پی کے بعض دھڑے القاعدہ سے وابستہ گروہوں کے ساتھ تعاون بڑھا سکتے ہیں، جس سے تنظیم کی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع ہونے اور خطے سے باہر بھی خطرہ پیدا ہونے کا خدشہ ہے
پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے ٹھکانے پاکستان میں ہونے والے حملوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، جبکہ طالبان حکام ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس میں دونوں فریقوں کے مؤقف کا ذکر کرتے ہوئے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور ان کے سرحد پار اثرات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے
رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں نہ صرف پاکستان کے لیے سکیورٹی خطرہ ہیں بلکہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات کو مزید خراب کرنے کا سبب بھی بن رہی ہیں

قومی خبریں سے مزید