ڈیموکریٹک پارٹی میں سوشلزم کا بڑھتا اثر، کیا نظریاتی پاکیزگی نئی سیاسی آزمائش بن رہی ہے؟
امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ سے وابستہ امیدواروں کے بڑھتے ہوئے اثر نے پارٹی کے مستقبل پر ایک بنیادی بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے،سوال یہ ہے کہ کیا ڈیموکریٹس کو مزید بائیں جانب جا کر اپنی نظریاتی شناخت مضبوط کرنی چاہیے، یا پھر ان ووٹروں کی بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہیے جو ریپبلکن پارٹی سے ناخوش ہیں لیکن خود کو بائیں بازو کی سیاست کا حصہ نہیں سمجھتے؟
یہ بحث محض انتخابی حکمت عملی تک محدود نہیں،ایک تجزیے کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بائیں جانب بڑھتے ہوئے رجحان کی ایک وجہ پالیسیوں سے زیادہ سیاسی قبائلیت بھی ہو سکتی ہے
سیاسی قبائلیت میں لوگ صرف کسی امیدوار یا پالیسی کی حمایت نہیں کرتے بلکہ ایک ایسے گروہ کا حصہ بن جاتے ہیں جو انہیں شناخت، وابستگی اور دوسروں سے الگ ہونے کا احساس فراہم کرتا ہے،اس صورتحال میں سیاسی اختلاف محض رائے کا اختلاف نہیں رہتا بلکہ بعض اوقات گروہ سے وفاداری کا امتحان بن جاتا ہے
ایسے سیاسی گروہ اپنے ارکان کے لیے ایک طرح کے نظریاتی معیار بھی قائم کرتے ہیں،جو شخص ان معیاروں پر پورا نہ اترے اسے گروہ کے اندر مشکوک، غیر مخلص یا حتیٰ کہ مخالف سمجھا جا سکتا ہے،یوں پارٹی کے اندر اختلاف رائے برداشت کرنے کی گنجائش کم ہو سکتی ہے
ماہرینِ نفسیات اسے متوازن انفرادیت کے تصور سے بھی جوڑتے ہیں،انسان بیک وقت کسی گروہ کا حصہ بننا بھی چاہتا ہے اور خود کو دوسروں سے منفرد بھی سمجھنا چاہتا ہے،سیاسی جماعتیں اور تحریکیں جب اس انسانی نفسیات کو مضبوطی سے متاثر کرتی ہیں تو سیاسی وابستگی محض ووٹ دینے کا فیصلہ نہیں رہتی بلکہ شناخت کا حصہ بن جاتی ہے
اسی لیے کسی امیدوار کی مقبولیت ہمیشہ اس کی پالیسیوں کی مقبولیت کا نتیجہ نہیں ہوتی،بعض اوقات ووٹر اس امیدوار میں اپنے گروہ، اپنی شناخت اور اپنی سیاسی برادری کی نمائندگی دیکھتا ہے
یہ صورتحال ڈیموکریٹس کے لیے ایک اہم انتخابی سوال پیدا کرتی ہے
روایتی امریکی سیاست میں دونوں بڑی جماعتوں کی کامیابی کا ایک بنیادی راستہ ایسے ووٹروں کو حاصل کرنا رہا ہے جو سیاسی مرکز میں موجود ہوتے ہیں،یعنی وہ نہ مکمل طور پر دائیں بازو سے وابستہ ہوتے ہیں اور نہ بائیں بازو سے
ڈیموکریٹس ماضی میں اسی حکمت عملی کے ذریعے کامیابیاں حاصل کرتے رہے ہیں،سابق صدر بل کلنٹن کی نئے ڈیموکریٹ کی سیاست اس کی ایک نمایاں مثال تھی،کلنٹن نے ڈیموکریٹک پارٹی کو نسبتاً معتدل انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی اور ایسے ووٹروں کو اپنی طرف متوجہ کیا جو ریپبلکنز سے مکمل طور پر مطمئن نہیں تھے لیکن خود کو بائیں بازو کا حصہ بھی نہیں سمجھتے تھے
اسی طرح ریپبلکن پارٹی میں جارج ڈبلیو بش نے ہمدردانہ قدامت پسندی کے تصور کے ذریعے ایسے ووٹروں تک پہنچنے کی کوشش کی جو روایتی سخت گیر قدامت پسندی سے مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں تھے
آج ڈیموکریٹس کے سامنے مسئلہ یہ ہے کہ پارٹی کے اندر بائیں بازو کی نئی قوتیں زیادہ نمایاں ہو رہی ہیں، جبکہ ملک کے ووٹروں کی ایک بڑی تعداد اب بھی خود کو نظریاتی طور پر بائیں بازو سے وابستہ نہیں سمجھتی
ڈیموکریٹک سوشلسٹس سے وابستہ امیدواروں کی کامیابیاں اس بحث کو مزید نمایاں کر رہی ہیں،ان امیدواروں کے حامی سمجھتے ہیں کہ پارٹی کو زیادہ واضح اور اصولی ترقی پسند مؤقف اختیار کرنا چاہیے،ان کے نزدیک اعتدال کی طرف مسلسل جھکاؤ پارٹی کی شناخت کو کمزور کرتا ہے اور ایسے ووٹروں کو متحرک نہیں کر پاتا جو معاشی عدم مساوات، صحت عامہ، رہائش، اجرتوں اور سماجی انصاف کے معاملات پر زیادہ بنیادی تبدیلی چاہتے ہیں
لیکن دوسرا مؤقف یہ ہے کہ اگر ڈیموکریٹس بہت زیادہ نظریاتی ہو گئے تو وہ ان لاکھوں ووٹروں سے دور ہو سکتے ہیں جو ریپبلکن صدر یا ریپبلکن پالیسیوں سے ناخوش تو ہیں، مگر خود کو سوشلسٹ یا ترقی پسند نہیں سمجھتے
اصل چیلنج اسی توازن کا ہے
اگر سیاست صرف پالیسیوں کے مقابلے کا نام ہو تو پارٹی اپنی پالیسیوں کو تبدیل کرکے نئے ووٹر حاصل کر سکتی ہے،لیکن اگر سیاست زیادہ سے زیادہ شناخت اور قبائلیت کا مقابلہ بن جائے تو مسئلہ کہیں زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے،پھر ووٹر ضروری نہیں کہ یہ دیکھے کہ کون سی پالیسی اس کے لیے بہتر ہے؛ وہ پہلے یہ دیکھ سکتا ہے کہ کون سا امیدوار میرے گروہ کا حصہ ہے
یہ تبدیلی امریکی سیاست کے لیے گہری اہمیت رکھتی ہے کیونکہ جب سیاسی شناخت مضبوط ہو جاتی ہے تو مخالف پارٹی کے ساتھ سمجھوتہ بھی بعض اوقات اپنے گروہ سے بے وفائی تصور ہونے لگتا ہے
ڈیموکریٹس کے لیے آنے والے برسوں کا بنیادی سوال شاید یہی ہوگا کہ وہ ایک ایسی جماعت کیسے بنیں جو اپنے بائیں بازو کے کارکنوں اور نظریاتی ووٹروں کو بھی ساتھ رکھے، لیکن ساتھ ہی سیاسی مرکز میں موجود ان ووٹروں کو بھی اپنے قریب لائے جو ریپبلکن پارٹی سے بددل ہو چکے ہیں
اگر پارٹی اس دوسرے گروہ کو نظر انداز کرتی ہے تو وہ اپنی نظریاتی شناخت تو زیادہ مضبوط کر سکتی ہے، لیکن قومی انتخابات جیتنے کے لیے درکار وسیع انتخابی اتحاد بنانا مشکل ہو سکتا ہے
اور اگر وہ صرف مرکز کی طرف واپس جانے کی کوشش کرتی ہے تو ممکن ہے اس کے اپنے زیادہ سرگرم اور نظریاتی کارکن اسے اپنی سیاسی شناخت سے دور ہوتے ہوئے سمجھیں
یوں ڈیموکریٹس کی اصل جنگ صرف ریپبلکن پارٹی کے خلاف نہیں بلکہ اپنی ہی سیاسی شناخت کے اندر موجود دو مختلف سمتوں کے درمیان بھی ہے





