کینیڈا میں امریکی سفیر پیٹ ہوئیکسترا کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ، ہزاروں افراد کی حمایت

کینیڈا میں امریکی سفیر پیٹ ہوئیکسترا کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ، ہزاروں افراد کی حمایت

اوٹاوا: کینیڈا میں امریکی سفیر پیٹ ہوئیکسترا کو ملک سے نکالنے اور انہیں Persona Non Grata قرار دینے کے مطالبے نے زور پکڑ لیا ہے۔ کینیڈین پارلیمنٹ میں جمع کرائی گئی ایک ای-پٹیشن پر اب 43,530 سے زائد تصدیق شدہ دستخط ہو چکے ہیں۔
پارلیمنٹ کی ویب سائٹ کے مطابق ای-پٹیشن 7531 میں کینیڈین حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ امریکی سفیر کو سفارتی آداب اور کینیڈا کے اندرونی معاملات میں مبینہ مداخلت کے حوالے سے جواب دہ بنایا جائے۔ پٹیشن میں پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے امریکی سفارتی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
پٹیشن کے مطابق سفیر ہوئیکسترا نے 2025 کے کینیڈین انتخابات کو مبینہ طور پر “اینٹی امریکن” قرار دیا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنانے سے متعلق بیانات کو بھی انہوں نے نرم انداز میں بیان کیا۔ پٹیشن میں ان کے بعض دیگر بیانات اور کینیڈا کی اندرونی سیاست سے متعلق مبینہ مداخلت پر بھی تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں۔
پٹیشن میں کینیڈین حکومت سے تین اہم مطالبات کیے گئے ہیں:

  1. پیٹ ہوئیکسترا کو Persona Non Grata قرار دے کر ان کی واپسی کا مطالبہ کیا جائے۔
  2. امریکی حکومت کے سامنے ان کے مبینہ سفارتی طرزِ عمل پر اعتراض اٹھایا جائے۔
  3. کینیڈا کے اندرونی معاملات میں ممکنہ امریکی سفارتی مداخلت کی پارلیمانی تحقیقات کرائی جائیں۔
    یہ پٹیشن 21 جولائی 2026 کو کھولی گئی تھی اور 18 نومبر 2026 تک دستخط کے لیے دستیاب ہے۔ کینیڈین پارلیمنٹ کے مطابق حکومت کو ایوان میں پیش کی جانے والی پٹیشن کا جواب مقررہ طریقہ کار کے تحت دینا ہوتا ہے۔
    اہم بات: پٹیشن پر دستخط کی بڑی تعداد سیاسی دباؤ اور عوامی تشویش کی نشاندہی کرتی ہے، تاہم صرف پٹیشن کے ذریعے کسی سفیر کو خود بخود ملک بدر نہیں کیا جاتا؛ حتمی فیصلہ کینیڈین حکومت کے سفارتی اختیار کے تحت ہوگا

قومی خبریں سے مزید