سانحہ 9/11 کے ملبے میں اپنے باپ کو ڈھونڈنے والے دو بیٹے، فائر فائٹر کی موت کے بعد بھی اس کی آواز ان کے ساتھ رہی، کنارے پر کھڑے ہو کر تماشائی مت بنو،آگے بڑھو، کچھ کرو

سانحہ 9/11 کے ملبے میں اپنے باپ کو ڈھونڈنے والے دو بیٹے، فائر فائٹر کی موت کے بعد بھی اس کی آواز ان کے ساتھ رہی، کنارے پر کھڑے ہو کر تماشائی مت بنو،آگے بڑھو، کچھ کرو

11 ستمبر 2001 کی صبح جب دنیا نے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارتوں کو آگ کے شعلوں میں گھرا دیکھا، نیویارک فائر ڈیپارٹمنٹ کے خصوصی ریسکیو یونٹ کے لیفٹیننٹ کیون ڈاؤڈل نے خطرے سے دور رہنے کے بجائے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس جانب قدم بڑھایا جہاں سے باقی لوگ جان بچا کر بھاگ رہے تھے
کیون ڈاؤڈل کی پرورش نیویارک کے ایک محنت کش خاندان میں ہوئی تھی،نوجوانی میں انہوں نے زیر زمین سرنگیں کھودنے کا خطرناک کام کیا، پولیس میں بھی خدمات انجام دیں اور پھر فائر ڈیپارٹمنٹ میں شامل ہوگئے،وہ بالآخر ریسکیو 4 کے لیفٹیننٹ بنے، جو نیویارک فائر ڈیپارٹمنٹ کے انتہائی تربیت یافتہ یونٹس میں شمار ہوتا تھا
ان کا کام معمول کے فائر فائٹر سے کہیں زیادہ خطرناک تھا،سرنگوں میں آگ، عمارتوں کے انہدام، ہوائی جہاز کے حادثات، زیر آب ریسکیو اور بڑے پیمانے کی ہنگامی کارروائیوں کے لیے انہیں خصوصی تربیت حاصل تھی،ساتھیوں کے مطابق جتنا بڑا اور خطرناک فائر ہوتا، کیون اتنے ہی پرسکون دکھائی دیتے تھے
گھر میں بھی وہ اپنے دونوں بیٹوں، پیٹرک اور جیمز، کو مسلسل ایک اصول سکھاتے تھے،زندگی میں صرف تماشائی بن کر کنارے پر کھڑے نہ رہو،جو کچھ کرنا ہے، آگے بڑھ کر کرو
یہی سبق 11 ستمبر کو ان کے بیٹوں کے لیے زندگی کا سب سے کڑا امتحان بن گیا
کیون کی یونٹ ہائی جیک کیے گئے دوسرے طیارے کے ساؤتھ ٹاور سے ٹکرانے کے تقریباً 20 منٹ بعد ورلڈ ٹریڈ سینٹر پہنچی،کیون اپنے ساتھیوں کی قیادت کرتے ہوئے ساؤتھ ٹاور کے اندر داخل ہوئے
صبح 9 بج کر 59 منٹ پر ساؤتھ ٹاور منہدم ہوگیا
اور پھر کیون بھی واپس نہیں آئے
کئی دن تک ان کے خاندان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا؟ گراؤنڈ زیرو پر امدادی کارکن ملبے میں زندہ بچ جانے والوں اور ہلاک ہونے والوں کو تلاش کر رہے تھے،تقریباً ایک ہفتے بعد ملبے میں ایک ایسا بھاری فائر فائٹنگ آلہ ملا جس پر کے ڈی اور آر 4 کے نشانات تھے،یہ کیون ڈاؤڈل اور ان کے یونٹ ریسکیو 4 کی شناخت تھی
لیکن کیون خود نہیں ملے
اسی دوران ان کا بڑا بیٹا پیٹرک، جو اس وقت کالج میں تھا، اپنے والد کی گمشدگی کو قبول نہیں کر پا رہا تھا،اس نے اپنے چھوٹے بھائی جیمز سے رابطہ کیا اور دونوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خود گراؤنڈ زیرو جائیں گے
پیٹرک نے اپنے بھائی سے کہا کہ اگر انہیں والد مل گئے تو وہ وہاں موجود رہنا چاہتا ہے،وہ اپنے والد کو خود ملبے سے نکالنے میں مدد کرنا چاہتا تھا
جیمز نے اپنے والد کی آواز اپنے ذہن میں سنی: کنارے پر کھڑے مت رہو،کچھ کرو
دونوں بھائی گراؤنڈ زیرو پہنچے اور اپنے والد کی تلاش میں شامل ہوگئے
لیکن یہ تلاش صرف اپنے والد کی باقیات تلاش کرنے تک محدود نہیں رہی،دی اٹلانٹک کی رپورٹ کے مطابق دونوں نوجوان بالآخر دوسرے خاندانوں کے لیے بھی ملبے میں تلاش اور امدادی کام کا حصہ بن گئے،یوں وہ اپنے والد کو تلاش کرتے ہوئے دوسرے لوگوں کے باپ بھای شوہر بیٹے کی باقیات نکالنے میں مدد کرنے لگے
مہینوں تک یہ سلسلہ جاری رہا
20 اپریل 2002 کو کیون ڈاؤڈل کی یاد میں تقریب منعقد ہوئی،ان کے تابوت میں اس جگہ کی دھول بھی رکھی گئی جہاں خاندان کا خیال تھا کہ وہ ہلاک ہوئے تھے،ان کے فائر فائٹنگ کے جوتے، اضافی حفاظتی لباس، آئس لینڈ کے سفر کے کتابچے اور ان کے بیٹوں کے خطوط بھی ساتھ رکھے گئے تھے
پیٹرک نے باپ کی یاد میں بیگ پائپ بجائے اور اپنی تقریر میں انہیں استاد، رہنما، کاریگر، سننے والا اور اپنا بہترین دوست قرار دیا
لیکن کیون کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی
ان کے دونوں بیٹوں نے بعد میں اپنے والد کے راستے کو اپنے اپنے انداز میں آگے بڑھایا،پیٹرک نے ویسٹ پوائنٹ میں داخلہ لیا اور بعد میں فوج میں شامل ہو کر عراق میں خدمات انجام دیں،جیمز نے بالآخر نیویارک فائر ڈیپارٹمنٹ میں شمولیت اختیار کی
جیمز نے اپنے والد کا بیج نمبر لیا اور وہی ہالیگن آلہ استعمال کیا جو ملبے سے کیون کی شناخت کے طور پر ملا تھا
2010 میں جیمز نے ایک شدید آگ کے دوران ایک جلتی ہوئی عمارت سے ایک نو ماہ کے بچے سمیت چار افراد کو زندہ نکالنے میں مدد کی،بعد میں وہ ریسکیو 2 میں شامل ہوئے اور انتہائی خطرناک رسی کے ذریعے ریسکیو کارروائیوں میں حصہ لیا،2025 کے اوائل میں انہیں لیفٹیننٹ کے عہدے پر ترقی ملی، یعنی وہی عہدہ جو ان کے والد کے پاس تھا
پیٹرک نے فوج سے نکلنے کے بعد فائر ڈیپارٹمنٹ میں شامل ہونے کے بارے میں بھی سوچا،وہ فائر فائٹر بننے کے امتحان میں تقریباً 45,000 امیدواروں میں پہلے نمبر پر آئے، لیکن آخرکار کاروباری شعبے میں جانے کا فیصلہ کیا
کیون کی اہلیہ روز ایلن اور دونوں بیٹے ہر سال 11 ستمبر کو ریسکیو 4 کے فائر ہاؤس میں منعقد ہونے والی یادگاری تقریب میں شرکت کرتے ہیں
پھر خاندان گھر واپس آتا ہے اور ایک میز پر کھانا کھاتا ہے،میز کے سرے پر کیون کے لیے ایک نشست خالی رکھی جاتی ہے اور اس کے سامنے سرخ شراب کا گلاس رکھا جاتا ہے،کھانے کے اختتام پر خاندان کے افراد وہ گلاس ایک دوسرے کو دیتے ہیں اور ہر شخص کیون کے بارے میں ایک یاد یا واقعہ بیان کرتا ہے
25 سال گزرنے کے باوجود کیون ڈاؤڈل کی باقیات نہیں مل سکیں
لیکن ان کے بیٹے کہتے ہیں کہ ان کے لیے ’’کبھی نہ بھولو‘‘ محض ایک نعرہ نہیں،وہ اسے اپنی زندگی میں زندہ رکھتے ہیں
کیون نے اپنے بیٹوں کو جو سبق دیا تھا، وہ ان کی موت کے بعد بھی ان کے ساتھ رہا،کنارے پر کھڑے ہو کر تماشائی مت بنو،آگے بڑھو، کچھ کرو
اور شاید یہی اس خاندان کی سب سے بڑی میراث ہے کہ ایک باپ جو 11 ستمبر کے ملبے میں ہمیشہ کے لیے گم ہوگیا، اس کے دونوں بیٹوں نے اس کے بعد اپنی پوری زندگی اس مثال کو زندہ رکھنے میں گزار دی

قومی خبریں سے مزید