ساؤتھ کیرولائنا میں ریپبلکن سینیٹ پرائمری، ڈارلین گراہم اور رالف نارمن رن آف میں پہنچ گئے
جنوبی کیرولائنا میں آنجہانی سینیٹر لنڈسے گراہم کی خالی ہونے والی نشست پر ریپبلکن امیدوار کے انتخاب کے لیے ہونے والی خصوصی پرائمری میں ڈارلین گراہم اور امریکی ایوان نمائندگان کے رکن رالف نارمن نے رن آف کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔ دونوں اب 25 اگست کو ہونے والے دوسرے مرحلے میں آمنے سامنے ہوں گے
10 امیدواروں کے درمیان ہونے والے مقابلے میں ڈارلین گراہم سب سے زیادہ ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہیں، جبکہ رالف نارمن دوسرے نمبر پر رہے۔ ڈارلین گراہم کو اپنے بھائی لنڈسے گراہم کی اچانک موت کے صرف ایک ماہ بعد اس غیر معمولی سیاسی مقابلے کا سامنا کرنا پڑا ہے
لنڈسے گراہم 11 جولائی کو اچانک انتقال کر گئے تھے، جس کے بعد جنوبی کیرولائنا میں خصوصی سینیٹ انتخابات کا عمل شروع ہوا،گورنر ہنری میک ماسٹر نے لنڈسے گراہم کی مدت کے باقی ماندہ عرصے کے لیے ان کی بہن ڈارلین گراہم کو عارضی طور پر سینیٹر مقرر کر دیا تھا
ڈارلین گراہم اگرچہ پہلی مرتبہ کسی انتخاب میں امیدوار بنی تھیں اور ان کے پاس منتخب عوامی عہدے کا تجربہ بھی نہیں تھا، تاہم وہ طویل عرصے سے اپنے بھائی کے سیاسی حلقے کے قریب رہی ہیں،ابتدا میں ان کی سیاسی تجربے کی کمی پر سوالات اٹھائے گئے، لیکن انتخابی مہم کے دوران انہوں نے اپنی پوزیشن مضبوط کی اور 10 امیدواروں کے میدان میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے
ان کی کامیابی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فوری حمایت بھی اہم عنصر رہی،ٹرمپ نے ڈارلین گراہم کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ریپبلکن ووٹروں کو ان کے حق میں متحد کرنے کی کوشش کی،تاہم سینیٹ کی یہ نشست غیر معمولی طور پر اہم ہونے کے باعث ریاست کے کئی نمایاں ریپبلکن رہنماؤں نے بھی مقابلے میں حصہ لیا
اب 25 اگست کا رن آف صرف جنوبی کیرولائنا کی سینیٹ نشست کے لیے مقابلہ نہیں رہے گا بلکہ یہ صدر ٹرمپ کے لیے بھی ایک اہم سیاسی امتحان بن چکا ہے،خاص طور پر یہ دیکھا جائے گا کہ ٹرمپ کی حمایت جنوبی کیرولائنا کے ریپبلکن ووٹروں کو ان کے حمایت یافتہ امیدوار کے پیچھے کس حد تک متحد کر سکتی ہے
ڈارلین گراہم کی کامیابی انہیں اپنے مرحوم بھائی کی سیاسی میراث برقرار رکھنے کے قریب لے آئی ہے، لیکن رالف نارمن کے خلاف رن آف میں انہیں ایک مرتبہ پھر ثابت کرنا ہوگا کہ وہ صرف اپنے بھائی کے نام اور صدر ٹرمپ کی حمایت کے باعث نہیں بلکہ اپنی سیاسی صلاحیت اور انتخابی طاقت کی بنیاد پر بھی سینیٹ کی نشست حاصل کر سکتی ہیں





