ٹرمپ ماضی کی لڑائیاں دوبارہ لڑنے میں مصروف، لنکن میموریل کے تالاب کا تنازع بھی نہ چھوڑا

ٹرمپ ماضی کی لڑائیاں دوبارہ لڑنے میں مصروف، لنکن میموریل کے تالاب کا تنازع بھی نہ چھوڑا

صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ کئی دنوں سے اپنے پرانے سیاسی اور ذاتی تنازعات کو دوبارہ زندہ کرنے میں مصروف ہیں، جن میں ایک عجیب و غریب معاملہ واشنگٹن میں لنکن میموریل کے سامنے واقع عکسی تالاب کو نقصان پہنچانے کا الزام بھی شامل ہے
ٹرمپ نے اتوار کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک طویل تحریر میں لنکن میموریل کے عکسی تالاب کو نقصان پہنچانے کے مبینہ واقعات میں ملوث قرار دیے گئے افراد میں سے ایک کے خلاف دوبارہ الزامات عائد کیے
صدر نے سابق اولمپک کینو کھلاڑی ڈیوڈ ہیرن کا نام لیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ نیشنل پارک سروس کے ایک ’’انتہائی قابل اعتماد‘‘ مستقل ملازم نے ہیرن کو مبینہ طور پر تالاب کی نسبتاً نازک تہہ کو ’’کھینچتے اور نوچتے‘‘ ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا
ٹرمپ نے اس معاملے کو ایک ایسے وقت میں دوبارہ اٹھایا ہے جب یہ تنازع پہلے ہی خبروں سے تقریباً غائب ہو چکا تھا،ان کی جانب سے پرانے واقعات اور مخالفین کے خلاف سابقہ الزامات کو بار بار سامنے لانے کا انداز ان کے موجودہ سیاسی طرزعمل کا نمایاں حصہ بن چکا ہے
لنکن میموریل کا عکسی تالاب واشنگٹن کی سب سے معروف یادگاروں میں شمار ہوتا ہے اور امریکی تاریخ کے اہم ترین سیاسی لمحات کا پس منظر بھی رہا ہے،اس کے تحفظ اور دیکھ بھال سے متعلق کسی بھی نقصان کی خبر عام طور پر خاصی توجہ حاصل کرتی ہے
تاہم ٹرمپ کا تازہ بیان صرف تالاب کے مبینہ نقصان تک محدود نہیں،یہ ان کے اس وسیع تر رجحان کی ایک مثال ہے جس کے تحت وہ ماضی کے تنازعات، پرانے مخالفین اور سابقہ سیاسی لڑائیوں کو دوبارہ موضوع بناتے رہتے ہیں، خواہ وہ تنازعات کئی عرصہ پہلے ختم ہو چکے ہوں
گزشتہ چند دنوں کے دوران صدر نے متعدد پرانے معاملات کو دوبارہ اٹھایا ہے اور اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو ان تنازعات پر دوبارہ عوامی بحث شروع کرنے کے لیے استعمال کیا ہے
یہ طرزعمل ٹرمپ کی صدارت کے ایک ایسے پہلو کو نمایاں کرتا ہے جس میں ماضی کی لڑائیاں کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں،سیاسی مخالفین، پرانے تنازعات اور سابقہ واقعات بار بار ان کی موجودہ سیاسی گفتگو کا حصہ بن جاتے ہیں

قومی خبریں سے مزید