روس کی نئی جیل کے اندر کیا ہو رہا ہے؟ ایک قیدی کے کمرے کی کہانی پیوٹن کے عزائم کی تصویر پیش کرتی ہے
روسی شہر روستوف میں واقع ایک قدیم حراستی مرکز کی ایک جیل کو دیکھا جائے تو بظاہر یہ روس کے عام قید خانے جیسی محسوس ہوتی ہے، لیکن اس کی ایک کوٹھڑی کی کہانی بتاتی ہے کہ یوکرین کے خلاف جنگ کے بعد روس نے اپنے نظامِ قید کو کس طرح ایک نئے ہتھیار میں تبدیل کر دیا ہے،امریکی جریدے نیویارکر کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق روس نے جنگ کے دوران عام روسی قیدیوں کو بعض حصوں سے نکال کر وہاں یوکرینی فوجیوں اور شہریوں کے لیے جگہ بنائی، جنہیں روسی حکام نے مختلف جرائم کے الزامات میں گرفتار کیا
روستوف کا مرکزی قبل از مقدمہ حراستی مرکز، جسے سیزو-1 کہا جاتا ہے، دراصل کیتھرین اعظم کے دور سے چلا آ رہا ہے،اس کی عمارت انگریزی حرف ای کی شکل میں بنی ہوئی ہے، جس کے مرکزی راستے سے تین حصے نکلتے ہیں اور ہر حصے میں قید خانے موجود ہیں،روس کے یوکرین پر حملے کے بعد اسی پرانی عمارت میں ایک نئی قسم کے قیدی لائے جانے لگے: ایسے یوکرینی شہری اور فوجی جو روسی سرزمین پر مقدمات کا سامنا کر رہے تھے
رپورٹ میں یوکرینی خاتون لیلیا پروتیان کی کہانی اس پورے نظام کی ایک جھلک پیش کرتی ہے،وہ یوکرینی فوج سے وابستہ ایک طبی کارکن رہ چکی تھیں اور گرفتاری کے بعد ایک سال تک اسی حراستی مرکز میں قید رہیں،ستمبر 2024 میں انہیں تقریباً دس دوسری خواتین کے ساتھ طبی مرکز لے جایا گیا، جہاں انہیں لباس اتارنے پر مجبور کیا گیا اور جسم پر تشدد کے نشانات تلاش کیے گئے،اگر کوئی نشان ملتا تو قیدی کو ایک ایسا کاغذ دیا جاتا جس پر دستخط کر کے یہ تصدیق کرنا ہوتی کہ اسے جیل میں اپنے ساتھ ہونے والے سلوک سے کوئی شکایت نہیں،
یہ خواتین محض جنگی قیدی نہیں تھیں،رپورٹ کے مطابق بعض خواتین کھانا پکانے کے کام سے وابستہ تھیں اور انہیں بھی روس نے دہشت گردی سمیت سنگین الزامات میں گرفتار کیا،ان میں وہ خواتین بھی شامل تھیں جو آزوف اسٹال میں موجود یوکرینی فوجیوں کے لیے کھانا پکاتی تھیں،روسی حکومت آزوف اور ایدار جیسی یوکرینی جنگی تنظیموں کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دیتی ہے اور ان سے وابستہ افراد کو سخت مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،ایک خاتون کا کہنا تھا کہ صرف بورشٹ بنانا حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش نہیں ہو سکتا،
رپورٹ کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ روس ان قیدیوں کو محض جنگی قیدی تصور کرنے کے بجائے انہیں مجرم، دہشت گرد یا غدار کے طور پر پیش کر رہا ہے،اس طریقے سے ان کی قانونی حیثیت بھی بدل جاتی ہے اور ان کی رہائی کے امکانات مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں،نیویارکر کے مطابق ہزاروں یوکرینی اب بھی روسی جیلوں میں قید ہیں اور ان میں سے بہت سے شہری ہیں، جنہیں روس جنگی قیدی کے طور پر تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے،
اسی لیے رپورٹ نے روس کے موجودہ قیدی نظام کے لیے نئے گلگ کی اصطلاح استعمال کی ہے،سوویت دور کے گلگ کا بنیادی مقصد سیاسی اور ریاستی کنٹرول، جبری مشقت اور مخالفین کو کچلنے کے لیے وسیع قید خانوں کا نظام قائم کرنا تھا،جدید روسی نظام اس کی مکمل نقل نہیں، لیکن ماہرین روس کے موجودہ قیدی ڈھانچے میں سوویت دور کی کئی روایات کے تسلسل کی نشاندہی کرتے ہیں اور بعض انسانی حقوق کے کارکن اسے ’’نو گلگ‘‘ بھی قرار دیتے ہیں
اس پوری کہانی میں ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ قید کے انتہائی مشکل ماحول میں بھی بعض خواتین نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا،قیدیوں کے ایک گروپ میں روزانہ ورزش کے بعد انگریزی زبان کی کلاس بھی ہوتی تھی، جس کی قیادت ایک سابق استاد کرتی تھیں،وہ اپنی جیل کی حالت کے باوجود دوسری خواتین کو پڑھاتی رہیں،
یہ تفصیل دراصل اس رپورٹ کا سب سے بڑا پیغام واضح کرتی ہے،پیوٹن کا روس صرف میدان جنگ میں یوکرین کو شکست دینے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ یوکرینی شناخت، مزاحمت اور جنگ سے وابستہ ہر شخص کو ایک ایسے قانونی اور انتظامی نظام میں جکڑنے کی کوشش کر رہا ہے جہاں قید خود سیاسی دباؤ کا ذریعہ بن جاتی ہے
ایک جیل کی ایک کوٹھڑی بظاہر معمولی واقعہ لگ سکتی ہے، لیکن ان قیدیوں کی کہانیاں مل کر روس کی جنگی پالیسی کا ایک بڑا نقشہ سامنے لاتی ہیں،جنگ کے دوران گرفتار ہونے والے افراد کو برسوں تک قید رکھنا، ان پر دہشت گردی جیسے مقدمات چلانا اور انہیں یوکرین کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے بجائے مجرموں کے طور پر پیش کرنا، روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے انسانی اور سیاسی اثرات کو میدان جنگ سے کہیں آگے تک پھیلا دیتا ہے





