امریکیوں کو گھر سے نکلنے کا ایسا جنون سوار ہوا کہ دنیا چھوٹی پڑ گئی، بیرونِ ملک سفر نئی زندگی کا لازمی حصہ بن گیا
امریکی سیاح اب صرف چھٹی گزارنے کے لیے سفر نہیں کرتے، وہ مسلسل سفر کر رہے ہیں، بار بار نئے ملک دیکھ رہے ہیں اور دنیا کے دور دراز مقامات تک پہنچنے کے لیے ہزاروں میل کا فاصلہ طے کر رہے ہیں،امریکہ کی مضبوط معیشت اور بڑھتی ہوئی مالی استطاعت نے ایک ایسی قوم کو جو کبھی زیادہ تر گھروں تک محدود رہنے کے لیے مشہور تھی، دنیا کی سب سے زیادہ پرجوش سیاح قوموں میں تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکیوں کے بیرونِ ملک سفر میں غیر معمولی اضافہ اس وسیع تر تبدیلی کی علامت ہے جس میں سفر اب محض عیش و عشرت نہیں رہا بلکہ بہت سے امریکیوں کے لیے زندگی کا لازمی حصہ بنتا جا رہا ہے،بعض مسافر تو سال میں کئی مرتبہ بیرونِ ملک جاتے ہیں اور ایک ہی شہر کا دوبارہ رخ کرنے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے
اس تبدیلی کی ایک دلچسپ مثال 70 سالہ ال لینزا ہیں،ان کے والدین نے 1961 میں امریکہ آنے کے بعد اپنی زندگی میں صرف 3 مرتبہ بیرونِ ملک سفر کیا تھا،اس کے برعکس لینزا کا انداز بالکل مختلف ہے،وہ اندازہ لگاتے ہیں کہ گزشتہ 50 برس کے دوران وہ تقریباً 500 مرتبہ سفر کر چکے ہیں
لینزا نے اپنے ہر سفر کی یادیں محفوظ رکھنے کے لیے گھر میں ایک پورا دفتر بنا رکھا ہے ،جہاں ان کے اپنے تیار کردہ کتابچے اور سفری یادداشتیں موجود ہیں،ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچنے کے باوجود سفر کا شوق کم ہونے کے بجائے بڑھتا جا رہا ہے،صرف گزشتہ ایک برس میں وہ 3 مرتبہ بارسلونا جا چکے ہیں
ایسے امریکی مسافروں کی تعداد میں اضافہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ سفر اب امریکی متوسط اور بالائی متوسط طبقے کی زندگی میں ایک نئی ترجیح بن چکا ہے،پہلے بیرونِ ملک سفر کو ایک خاص موقع یا بڑی تعطیلات سے جوڑا جاتا تھا، اب بہت سے امریکی اسے اپنی معمول کی زندگی کا حصہ سمجھنے لگے ہیں
اس رجحان کے پیچھے صرف دولت نہیں بلکہ سفر کے آسان ذرائع، دور دراز مقامات تک براہِ راست پروازوں میں اضافہ، سفری معلومات تک فوری رسائی اور ریٹائر ہونے والی بڑی عمر کی آبادی کا بڑھتا ہوا مالی تحفظ بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے
امریکی سیاحوں کے لیے دنیا اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ قابلِ رسائی ہے،ایک شخص ایک ہی سال میں یورپ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے مختلف ممالک کا سفر کر سکتا ہے اور پھر چند ماہ بعد دوبارہ کسی پسندیدہ شہر کا رخ کر سکتا ہے
یہ تبدیلی امریکی معاشرے میں سفر کے بارے میں بدلتے ہوئے تصور کو بھی ظاہر کرتی ہے،ایک وقت تھا جب بیرونِ ملک جانا بہت سے امریکی خاندانوں کے لیے غیر معمولی واقعہ سمجھا جاتا تھا،اب ایک نئی نسل کے لیے سفر تجربات جمع کرنے، نئی ثقافتیں دیکھنے اور زندگی کو بھرپور انداز میں گزارنے کا ذریعہ بن چکا ہے
اور شاید اسی لیے بعض امریکی مسافروں کے لیے اب سوال یہ نہیں کہ ’’کیا ہمیں سفر کرنا چاہیے؟‘‘ بلکہ سوال یہ بن چکا ہے کہ اگلا سفر کہاں ہوگا؟
یہی وہ تبدیلی ہے جس نے امریکی سیاح کو ایک ایسے مسافر میں تبدیل کر دیا ہے جسے روکنا مشکل ہے،سفر اب بہت سے امریکیوں کے لیے صرف تفریح نہیں رہا، بلکہ زندگی کا ایک مستقل طرزِ عمل بن گیا ہے





