صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں پاکستانی شہریوں کا نئی ویڈیو پیغام، حکومت سے مدد کی اپیل

صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں پاکستانی شہریوں کا نئی ویڈیو پیغام، حکومت سے مدد کی اپیل

اسلام آباد: صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی عملے نے ایک بار پھر حکومتِ پاکستان سے فوری مدد اور رہائی کے لیے اقدامات کرنے کی اپیل کردی ہے۔ یرغمالیوں کی جانب سے جاری کیے گئے نئے ویڈیو پیغامات میں ان کی خراب ہوتی صحت اور انتہائی تشویشناک حالات سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایم ٹی آنر 25 نامی تیل بردار جہاز کو 21 اپریل کو صومالیہ کے علاقے پنٹ لینڈ کے ساحل کے قریب مسلح بحری قزاقوں نے قبضے میں لے لیا تھا۔ جہاز پر 17 سے 19 افراد سوار تھے، جن میں 10 پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔
یرغمالیوں کو قید ہوئے 100 سے زائد دن گزر چکے ہیں، تاہم تاوان کی ادائیگی یا مذاکرات کے ذریعے ان کی رہائی کے معاملے میں اب تک کوئی واضح پیش رفت نہیں ہوسکی۔
نئے ویڈیو پیغام میں پاکستانی یرغمالی یاسر خان نے بتایا کہ عملے کے متعدد افراد بیمار ہوچکے ہیں اور انہیں مناسب طبی سہولیات اور ادویات دستیاب نہیں۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری سے اپیل کی کہ ان کی رہائی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
یاسر خان نے کہا کہ حکومت ان کی مدد کرے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے اور یرغمالیوں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
ایک اور پاکستانی یرغمالی حسین یوسف نے کہا کہ 100 سے زیادہ دن گزر چکے ہیں لیکن انہیں یہ معلوم نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوگا۔ انہوں نے وزیراعظم اور چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی فوری کارروائی کی اپیل کی۔
وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے یرغمالیوں کی رہائی میں تاخیر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملے پر مختلف وزارتوں اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ جاری ہے۔ ان کے مطابق وزارت انسانی حقوق، وزارت بحری امور اور دیگر ادارے صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔
ترجمان کے مطابق معاملہ اس لیے بھی پیچیدہ ہے کہ یرغمالی صومالیہ کے ایک خودمختار علاقے میں قید ہیں، جہاں انہیں آزاد کرانے کے لیے عملی اقدامات اور قزاقوں سے مذاکرات انتہائی مشکل ہیں۔ صومالیہ میں قبائلی نظام اور بااثر شخصیات کا کردار بھی معاملے کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ حکومت صومالیہ کی حکومت، متعلقہ حکام اور بین الاقوامی اداروں سے مسلسل رابطے میں ہے اور یرغمالیوں کی جلد رہائی اور پاکستان واپسی کے لیے تمام ممکنہ کوششیں جاری ہیں۔
پاکستانی عملے کے علاوہ جہاز پر سات انڈونیشی شہری، ایک بھارتی اور ایک سری لنکن شہری بھی یرغمال ہیں۔ ماضی میں یرغمالیوں کی جانب سے خوراک، صاف پانی اور ادویات کی کمی کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں

قومی خبریں سے مزید