میانمار کی معزول رہنما آنگ سان سوچی کی پانچ برس بعد ریڈ کراس کے اعلیٰ عہدیدار سے پہلی ملاقات

میانمار کی معزول رہنما آنگ سان سوچی کی پانچ برس بعد ریڈ کراس کے اعلیٰ عہدیدار سے پہلی ملاقات

نیپیداؤ: میانمار کی فوجی حکومت کی حراست میں موجود سابق جمہوری رہنما آنگ سان سوچی نے پانچ سال سے زائد عرصے میں پہلی مرتبہ کسی بین الاقوامی ادارے کے نمائندے سے ملاقات کی۔ ان کی ملاقات بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس (ICRC) کے میانمار میں سربراہ آرنو ڈی بیک سے ہوئی۔
فوجی حکومت کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں 81 سالہ آنگ سان سوچی کو بظاہر صحت مند حالت میں دکھایا گیا۔ ریڈ کراس نے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ملاقات تنظیم کے معمول کے رازداری کے اصولوں کے تحت ہوئی، تاہم سوچی کی صحت یا گفتگو کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
آنگ سان سوچی کو فروری 2021 میں فوجی بغاوت کے بعد اقتدار سے ہٹا کر گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان پر متعدد مقدمات قائم کیے گئے، جنہیں ان کے حامی سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات قرار دیتے ہیں۔ رواں سال انہیں جیل سے منتقل کرکے نظر بندی میں رکھا گیا تھا، تاہم وہ اب بھی قید میں ہیں۔
سوچی کے بیٹے کم ایریس نے اس ملاقات کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا، تاہم انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کی والدہ تک مزید بین الاقوامی رسائی دی جائے اور تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ اقوام متحدہ نے بھی اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے میانمار میں تمام سیاسی قیدیوں کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ دہرایا۔

قومی خبریں سے مزید