مصنوعی ذہانت نے پومپئی کے دو ہزار سال پرانے راز کھولنے شروع کر دیے، آتش فشاں ویسوویئس کی تاریخ نئے سرے سے لکھی جا رہی ہے
اٹلی کے تاریخی شہر پومپئی کے بارے میں نئی تحقیق میں مصنوعی ذہانت نے ایسے شواہد سامنے لانے شروع کیے ہیں جو تقریباً دو ہزار سال پہلے آتش فشاں ویسوویئس کے تباہ کن دھماکے سے متعلق روایتی تصورات کو چیلنج کر رہے ہیں۔
ماہرین آثارِ قدیمہ اور کمپیوٹر سائنس دان مصنوعی ذہانت کی مدد سے قدیم عمارتوں، تحریروں، نقشوں، انسانی باقیات اور آتش فشانی ملبے کا انتہائی باریک بینی سے تجزیہ کر رہے ہیں۔ اس جدید طریقۂ تحقیق سے ایسے آثار اور نمونے سامنے آ رہے ہیں جو روایتی انسانی مشاہدے سے پوشیدہ رہے تھے۔
محققین کے مطابق مصنوعی ذہانت مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والے لاکھوں اعداد و شمار کو باہم ملا کر یہ سمجھنے میں مدد دے رہی ہے کہ 79ء میں ویسوویئس کے مہلک دھماکے کے دوران لاوے، زہریلی گیسوں اور راکھ نے کس رفتار اور ترتیب سے پومپئی اور اس کے گردونواح کو اپنی لپیٹ میں لیا۔
اس نئی ٹیکنالوجی کی بدولت ماہرین قدیم عمارتوں کی اصل ساخت، شہری زندگی، آبادی کی نقل و حرکت اور تباہی کے آخری لمحات کی زیادہ درست تصویر بھی مرتب کر رہے ہیں۔ بعض مقامات پر ایسی تحریریں اور نقش و نگار بھی شناخت کیے جا رہے ہیں جو صدیوں تک ناقابلِ مطالعہ سمجھے جاتے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت صرف ماضی کے راز دریافت کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ مستقبل میں آثارِ قدیمہ کی تحقیق کا بنیادی ستون بنتی جا رہی ہے، جس سے انسانی تاریخ کے کئی اہم ابواب کو نئے شواہد کی روشنی میں دوبارہ سمجھنے کا موقع ملے گا





