مردہ انٹرنیٹ نظریہ‘ درست ثابت ہونے لگا، مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس ویب کی دنیا کو بدل رہے ہیں
ایک عرصے سے زیرِ بحث “مردہ انٹرنیٹ نظریہ” کو نئی تقویت مل رہی ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس تیزی سے انٹرنیٹ پر سرگرم ہو رہے ہیں اور ویب کے روایتی کاروباری ماڈل کو تبدیل کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی خودکار ایجنٹس کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، بعض اندازوں کے مطابق یہ سرگرمیاں تقریباً 8,000 فیصد تک بڑھی ہیں۔ یہ اے آئی ایجنٹس ویب سائٹس کو پڑھنے، معلومات جمع کرنے، مواد کا تجزیہ کرنے اور مختلف کام خود انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
“مردہ انٹرنیٹ نظریہ” کا بنیادی خیال یہ ہے کہ مستقبل میں انٹرنیٹ پر انسانی تخلیق کردہ مواد کے مقابلے میں خودکار نظاموں، بوٹس اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کا غلبہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس جہاں صارفین کو زیادہ تیز اور ذاتی نوعیت کی خدمات فراہم کر سکتے ہیں، وہیں یہ ویب کے موجودہ معاشی نظام کے لیے بڑے سوالات بھی پیدا کر رہے ہیں۔ بہت سی ویب سائٹس کا کاروباری ماڈل اس بات پر قائم ہے کہ انسان ان کے صفحات دیکھیں، اشتہارات دیکھیں اور مواد کے ساتھ تعامل کریں، لیکن اگر اے آئی ایجنٹس براہِ راست معلومات حاصل کرنے لگیں تو یہ نظام متاثر ہو سکتا ہے۔
یہ تبدیلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انٹرنیٹ کا اگلا دور صرف انسانوں کے براؤز کرنے کا نہیں بلکہ انسانوں اور مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس کے درمیان تعامل کا دور ہو سکتا ہے





