مصنوعی ذہانت پر حد سے زیادہ انحصار انسان کو اوسط درجے کا بنا سکتا ہے، ماہرین کا انتباہ
مصنوعی ذہانت نے کام کی رفتار بڑھانے اور روزمرہ کے کئی کام آسان بنانے میں مدد دی ہے، لیکن نئی تحقیق خبردار کرتی ہے کہ کام کے دوران اے آئی پر ضرورت سے زیادہ انحصار انسان کی تخلیقی صلاحیت، سوچنے کی عادت اور پیشہ ورانہ ترقی کو متاثر کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مسلسل مصنوعی ذہانت سے تیار شدہ جوابات پر بھروسہ کرنے سے بعض افراد میں “ذہنی دستبرداری” کا رجحان پیدا ہو سکتا ہے، یعنی وہ خود گہرائی سے سوچنے، مسائل کا تجزیہ کرنے اور نئے خیالات پیدا کرنے کی کوشش کم کر دیتے ہیں۔
تحقیق میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر ملازمین اے آئی کو صرف ایک مددگار کے بجائے اپنی سوچ کا متبادل بنا لیں تو وہ اپنے کام میں انفرادیت اور مہارت کھو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں طویل مدت میں ان کے کیریئر پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ مصنوعی ذہانت کا استعمال نہیں بلکہ اس کا غلط طریقہ استعمال ہے۔ جو افراد اے آئی کو ایک معاون آلے کے طور پر استعمال کرتے ہیں، اپنے فیصلے خود کرتے ہیں اور نتائج کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں، وہ اس ٹیکنالوجی سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
اصل چیلنج یہ ہے کہ انسان مصنوعی ذہانت کو اپنی صلاحیت بڑھانے کے لیے استعمال کرے، نہ کہ اپنی سوچ اور تخلیقی صلاحیت کو اس کے حوالے کر دے





