مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہونے والی غیر معمولی سرمایہ کاری، کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور ٹیکنالوجی کے مستقبل سے وابستہ بڑی توقعات نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا دنیا ایک نئے “مصنوعی ذہانت کے بلبلے” کا سامنا کر رہی ہے۔
لیکن ماہرین کے مطابق یہ بلبلا ماضی کے عام مالیاتی بلبلوں جیسا نہیں، کیونکہ مصنوعی ذہانت محض قیاس آرائی پر مبنی رجحان نہیں بلکہ ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو معیشت، کاروبار، طب، تعلیم، دفاع اور روزگار کے طریقوں کو بنیادی طور پر تبدیل کر سکتی ہے۔
ماضی میں انٹرنیٹ کے ابتدائی دور میں بہت سی کمپنیاں بغیر مضبوط کاروباری بنیاد کے اربوں ڈالر کی قدر حاصل کر گئیں، جس کے بعد 2000 میں ڈاٹ کام بحران آیا۔ مصنوعی ذہانت کے معاملے میں بھی کچھ کمپنیوں کی قیمتیں ان کی موجودہ آمدنی کے مقابلے میں بہت زیادہ سمجھی جا رہی ہیں، جس سے خطرات موجود ہیں۔
تاہم فرق یہ ہے کہ آج مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی پہلے ہی بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہی ہے، بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اس میں اربوں ڈالر لگا رہی ہیں، اور اس کے عملی فوائد کئی شعبوں میں سامنے آ رہے ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت ختم ہو جائے گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کون سی کمپنیاں اس انقلاب سے حقیقی فائدہ اٹھائیں گی اور کون سی صرف جوش و خروش کی وجہ سے اپنی قیمتیں بڑھا رہی ہیں۔
تاریخ بتاتی ہے کہ ہر بڑی ٹیکنالوجی تبدیلی کے دوران سرمایہ کاری کا جوش بھی آتا ہے اور اصلاح کا مرحلہ بھی، لیکن مضبوط بنیاد رکھنے والی ٹیکنالوجیز اکثر بحران کے بعد بھی دنیا کو بدل دیتی ہیں





