نیویارک کے مکان مالکان نے کرایہ منجمد کرنے کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کر دیا، ممدانی کی ہاؤسنگ پالیسی پر پہلا بڑا قانونی محاذ

نیویارک کے مکان مالکان نے کرایہ منجمد کرنے کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کر دیا، ممدانی کی ہاؤسنگ پالیسی پر پہلا بڑا قانونی محاذ

نیویارک شہر میں کرایوں کو منجمد کرنے کے فیصلے کے خلاف مکان مالکان کے ایک گروپ نے عدالت سے رجوع کر لیا ہے، جسے میئر زوہران مامدانی کی ہاؤسنگ پالیسیوں کے خلاف رئیل اسٹیٹ صنعت کا پہلا بڑا قانونی چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔

مکان مالکان نے بدھ کے روز دائر کی گئی درخواست میں نیویارک سٹی رینٹ گائیڈ لائنز بورڈ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے جس کے تحت ایک اور دو سالہ کرایہ داری معاہدوں کے لیے کرایوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

بورڈ نے جون میں 7-1 ووٹ کے ذریعے کرایوں میں صفر فیصد اضافے کی منظوری دی تھی۔

مکان مالکان کے مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ بورڈ نے ایک “مصنوعی عمل” کے ذریعے فیصلہ کیا اور اس کی آزاد حیثیت متاثر ہوئی۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ بورڈ کو سیاسی دباؤ سے آزاد ہو کر کام کرنا چاہیے تھا، جبکہ ان کا دعویٰ ہے کہ میئر مامدانی نے فیصلے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔

کرایہ منجمد کرنے کی پالیسی میئر مامدانی کے انتخابی وعدوں میں شامل اہم نکات میں سے ایک رہی ہے، جس کا مقصد بڑھتے ہوئے کرایوں سے پریشان نیویارک کے لاکھوں کرایہ داروں کو ریلیف دینا ہے۔

دوسری جانب رئیل اسٹیٹ صنعت کا مؤقف ہے کہ طویل عرصے تک کرایوں میں اضافہ روکنے سے مکان مالکان کے لیے عمارتوں کی مرمت، دیکھ بھال اور نئے ہاؤسنگ منصوبوں میں سرمایہ کاری مشکل ہو سکتی ہے۔

یہ مقدمہ نیویارک میں ایک پرانے تنازع کو دوبارہ نمایاں کر رہا ہے: ایک طرف بڑھتے ہوئے کرایوں کے دباؤ کا شکار کرایہ دار ہیں، اور دوسری طرف مکان مالکان جو اخراجات، ٹیکس اور دیکھ بھال کے بڑھتے ہوئے بوجھ کی شکایت کرتے ہیں۔

عدالتی کارروائی اب یہ طے کرے گی کہ شہر کی کرایہ پالیسی میں سیاسی اختیار اور انتظامی آزادی کے درمیان توازن کس حد تک برقرار رکھا گیا ہے

قومی خبریں سے مزید