ٹرمپ کا نیا ٹیرف منصوبہ: سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد قانونی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئی درآمدی محصولات (ٹیرف) پالیسی کا اعلان کر دیا ہے جس کا مقصد ان کے تجارتی ایجنڈے کو قانونی چیلنجز سے محفوظ بنانا ہے۔ نئی محصولات کی شرح 10% سے 12.5% کے درمیان ہوگی، جو اس عارضی ٹیرف نظام کی جگہ لے گی جو اس وقت نافذ تھا۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی سپریم کورٹ نے فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کے وسیع تر تجارتی اقدامات کو قانونی رکاوٹوں کا سامنا کرا دیا تھا، جس کے بعد وائٹ ہاؤس کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنا پڑی۔
نئی پالیسی کے تحت حکومت نے کوشش کی ہے کہ محصولات عائد کرنے کا طریقہ ایسا ہو جو عدالت میں زیادہ مضبوط قانونی بنیاد پر کھڑا ہو سکے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ درآمدی محصولات امریکی صنعتوں کو تحفظ دیں گے، غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کا مقابلہ کریں گے اور امریکی مینوفیکچرنگ کو دوبارہ مضبوط کریں گے۔
تاہم ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ نئے ٹیرف کا اثر صرف بیرونی ممالک پر نہیں پڑے گا بلکہ امریکی صارفین اور کاروبار بھی اس کے اثرات محسوس کر سکتے ہیں، کیونکہ درآمدی اشیا مہنگی ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
تجارتی ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی دراصل ان کے “امریکہ فرسٹ” معاشی نظریے کا حصہ ہے، جس میں وہ عالمی تجارت کے موجودہ نظام کو امریکی مفادات کے لیے نقصان دہ قرار دیتے رہے ہیں۔
یہ فیصلہ آنے والے مہینوں میں امریکہ کے تجارتی تعلقات، عالمی منڈیوں اور افراط زر کے رجحانات پر اہم اثر ڈال سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی معیشت پہلے ہی جغرافیائی کشیدگی اور سپلائی چین کے مسائل سے دوچار ہے





