پاک چین 75 سالہ دوستی اور یوریشیائی رابطے کا نیا نقشہ
تحریر ۔ خالد مسعود چوہدری
سال 2026 پاکستان کی سفارتی تاریخ کا ایک سنہرا باب رقم کر رہا ہے۔ آج جب ہم چین کے ساتھ اپنے ‘آئین دوستی’ کے 75 برس مکمل کر رہے ہیں، اس تاریخی سنگ میل کو منانے کے ساتھ ساتھ خطے کی جیو پولیٹکس میں ایک انتہائی اہم اور مثبت تبدیلی بھی سامنے آئی ہے۔ یہ تبدیلی محض ایک زبانی کلامی بات نہیں بلکہ عملی اور حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا واضح اظہار حال ہی میں اسلام آباد میں تعینات چین اور روس کے سفیروں کے ایک مشترکہ اور تاریخی مضمون میں ہوا ہے۔
پاکستان میں چین کے سفیر جناب جیانگ زائیڈونگ اور روس کے سفیر جناب البرٹ کھوریف نے مل کر ایک مشترکہ کالم تحریر کیا، جو سفارتی حلقوں میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ مضمون چین اور روس کے درمیان ‘حسنِ ہمسایگی، دوستی اور تعاون کے معاہدے کے 25 برس مکمل ہونے کے موقع پر لکھا گیا۔ ان دونوں بااثر سفیروں نے اس مشترکہ تحریر میں نہ صرف اپنے ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک تعاون کا ذکر کیا، بلکہ خاص طور پر پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے ایک انتہائی اہم جملہ کہا: “اپنے حکمت عملی سے بھرپور محلِ وقوع کی وجہ سے پاکستان میں یوریشیائی رابطے کے نیٹ ورک کا ایک اہم اور
ناگزیر مرکز بننے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔”
سفارتی اور اسٹریٹجک نقطہ نظر سے یہ بیان انتہائی معنی خیز ہے۔ ماضی میں بڑی طاقتیں جنوبی ایشیا میں اپنے اپنے مفادات دیکھتی تھیں، لیکن آج بیجنگ اور ماسکو کی پالیسیاں ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو چکی ہیں۔ انہیں یہ ادراک ہو گیا ہے کہ یوریشیا کے عظیم الشان منصوبوں بشمول چین کے ‘بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو ‘ اور روس کے ‘گریٹر یوریشین پارٹنرشپ’ کو آپس میں جوڑنے کے لیے پاکستان کے جغرافیے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور گوادر کی گہرے پانی والی بندرگاہ سی پیک منصوبے میں سمندر تک رسائی کا سب سے مختصر راستہ ہے، بلکہ زمین سے گھرے وسطی ایشیائی ممالک اور روس کے لیے بھی بحیرہ عرب کی منڈیوں تک رسائی کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔
اس نئے سفارتی نقشے میں روس کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات بھی ایک اہم کڑی ہیں۔ سرد جنگ کی تاریخ کو پیچھے چھوڑ کر آج اسلام آباد اور ماسکو کے درمیان توانائی، تجارت اور دفاعی شعبوں میں مضبوط تعاون پروان چڑھ رہا ہے۔ افغانستان میں قیامِ امن، دہشت گردی کے خاتمے اور خطے میں استحکام کے لیے تینوں ممالک (پاکستان، چین، روس) کے مفادات ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم جیسے بین الاقوامی فورمز پر یہ تینوں ممالک ایک مشترکہ اور ہم آہنگ لائحہ عمل اپنا رہے ہیں۔
تاہم سفارتی امور کے ماہرین کے مطابق اس عظیم الشان وژن کی تعبیر کے لیے پاکستان کو کچھ سنگین چیلنجز سے نمٹنا ہوگا۔ یوریشیائی ‘ہب’ بننے کے لیے صرف جغرافیائی حیثیت کافی نہیں۔ ہمیں اپنی اندرونی سلامتی کی صورتحال کو بہتر بنانا ہوگا ، بلوچستان میں جاری شورش سے نپٹنا ہو گا اور سی پیک سمیت دیگر منصوبوں پر کام کرنے والے غیر ملکیوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی اور معاشی استحکام بھی ناگزیر ہے۔ جب تک ہماری معیشت مضبوط نہیں ہوتی اور ہم قرضوں کے بوجھ تلے دبے رہتے ہیں، ہم خطے کی معاشی سماج میں مکمل اور فعال کردار ادا نہیں کر سکتے۔
مختصر یہ کہ پاک چین 75 سالہ ‘آہنی دوستی’ نے ہمیں جو اسٹریٹجک بنیاد فراہم کی ہے، اور روس و چین کے مشترکہ وژن نے جو نئے دروازے کھولے ہیں، وہ پاکستان کے لیے ایک سنہرا موقع ہیں ۔ پاکستان اب محض ایک جغرافیائی ‘سنگم’ نہیں بلکہ ایک بین الاقومی رابطے میں ایک فحال ہب بننے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی خارجہ پالیسی میں تسلسل اور اندرونی استحکام کے ذریعے اس نئے یوریشیائی نظام کا نہ صرف حصہ بنیں بلکہ اس کی قیادت بھی کریں۔





