Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

البرٹامیں علیحدگی کے ممکنہ ریفرنڈم کے لیے کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ ڈین لائیڈ کو ذمہ داری سونپ دی گئی

البرٹامیں علیحدگی کے ممکنہ ریفرنڈم کے لیے کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ ڈین لائیڈ کو ذمہ داری سونپ دی گئی

کینیڈا کی کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ پیئر پوئیلیور نے البرٹا میں علیحدگی کے معاملے پر ہونے والے ریفرنڈم کے لیے رکن پارلیمنٹ ڈین لائیڈ کو پارٹی کا خصوصی نمائندہ مقرر کر دیا ہے۔
البرٹا کے شہری اکتوبر 2026 میں اس سوال پر ووٹ دیں گے کہ آیا صوبے کو کینیڈا سے علیحدگی کے حوالے سے مستقبل میں ایک باقاعدہ اور پابند ریفرنڈم کے عمل کی طرف بڑھنا چاہیے یا نہیں۔ یہ ووٹ براہ راست علیحدگی کا فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ آئینی عمل شروع کرنے کے سوال پر ہوگا۔
پیئر پوئیلیور نے کہا ہے کہ ڈین لائیڈ البرٹا کے عوام کے خدشات سنیں گے، جن میں مہنگائی، خوراک کی قیمتیں اور رہائش کے اخراجات جیسے مسائل شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان شہریوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جو وفاقی حکومت سے مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔
ڈین لائیڈ البرٹا کے حلقہ پارک لینڈ سے رکن پارلیمنٹ ہیں اور 2017 سے ہاؤس آف کامنز کے رکن ہیں۔ انہیں اب کنزرویٹو پارٹی کی جانب سے البرٹا کے اتحاد برقرار رکھنے کی مہم کی قیادت کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
البرٹا کی علیحدگی کا معاملہ صوبے میں سیاسی بحث کا بڑا موضوع بن چکا ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے اکتوبر میں ہونے والے ریفرنڈم کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ البرٹا کی وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے کہا ہے کہ وہ صوبے کو کینیڈا کے اندر برقرار رکھنے کے حق میں ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاملہ صرف آئینی بحث تک محدود نہیں بلکہ توانائی، معیشت، وفاقی حکومت کے ساتھ تعلقات اور صوبائی اختیارات جیسے اہم موضوعات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ بعض جائزوں میں زیادہ تر البرٹنز نے کینیڈا کے اندر رہنے کی حمایت ظاہر کی ہے، تاہم علیحدگی کی بحث نے صوبائی سیاست میں نمایاں جگہ بنا لی ہے۔

قومی خبریں سے مزید