معاشی بحرانوں کے درمیان پاکستان کی معیشت

معاشی بحرانوں کے درمیان پاکستان کی معیشت

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں کے پیش نظر پاکستان نے پہلی مرتبہ اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر (Strategic Petroleum Reserves) قائم کرنے کا منصوبہ شروع کر دیا ہے۔ پہلے مرحلے میں تقریباً 45 دن کے ہنگامی تیل ذخیرے کا ہدف رکھا گیا ہے، جسے بعد میں بڑھا کر 90 دن تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان اس وقت زیادہ تر محدود تجارتی ذخائر پر انحصار کرتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی بحران کی صورت میں تیل کی فراہمی متاثر ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ حکومت گوادر میں پاکستان میری ٹائم انرجی سٹی کے قیام پر بھی غور کر رہی ہے، جہاں خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب اور کویت، خام تیل کے ذخائر رکھ سکیں گے۔
پاکستان نے سعودی عرب سے تقریباً 6.7 ارب ڈالر کی موخر ادائیگی پر تیل کی سہولت حاصل کرنے کی درخواست بھی کی ہے تاکہ فوری توانائی بحران کے اثرات کم کیے جا سکیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹوں سے عالمی تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، جس سے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر، درآمدی بل اور مہنگائی پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کی بنیادی کمزوریاں:

  • درآمدی توانائی پر زیادہ انحصار
  • محدود برآمدی بنیاد
  • کمزور مالی ذخائر
  • بیرونی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ناکافی تیاری
    ہیں۔ رپورٹ کے مطابق طویل مدت میں پاکستان کو توانائی کے متبادل ذرائع، بہتر ذخائر، متنوع درآمدی راستوں اور مضبوط مالی نظام کی ضرورت ہے تاکہ ہر علاقائی بحران ملکی معیشت کے لیے بڑا خطرہ نہ بنے۔

قومی خبریں سے مزید