سندھ کے تین ساحلی اضلاع میں چار سال کے دوران متعدی بیماریوں کے تقریباً 10 لاکھ کیسز رپورٹ
کراچی: سندھ کے تین ساحلی اضلاع ٹھٹھہ، سجاول اور بدین میں 2019 سے 2022 کے دوران متعدی بیماریوں کے 9 لاکھ 82 ہزار 538 کیسز ریکارڈ کیے گئے، جن میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں اسہال اور ملیریا کے مشتبہ کیسز سب سے زیادہ تھے۔ ایک نئی تحقیق میں موسمیاتی تبدیلی، درجہ حرارت میں اضافے، نمی اور بارشوں کو بیماریوں میں اضافے سے جوڑا گیا ہے۔
تحقیق “کلائمیٹ ویری ایبلٹی اینڈ انفیکشیئس ڈیزیز برڈن اِن کوسٹل سندھ” کے عنوان سے شائع ہوئی، جس میں 166 بنیادی صحت مراکز کے اعداد و شمار اور موسمیاتی معلومات کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے مطابق درجہ حرارت، نمی اور بارشوں میں اضافے کے ساتھ بیماریوں کے پھیلاؤ میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق 2022 کے شدید مون سون سیلاب کے بعد ضلع ٹھٹھہ میں ستمبر 2022 کے دوران ملیریا کے تقریباً 30 ہزار کیسز سامنے آئے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ ملیریا کے کیسز عموماً مون سون بارشوں کے چار سے چھ ہفتے بعد بڑھتے ہیں، جبکہ بچوں میں اسہال کے کیسز مون سون کے مہینوں اور مارچ میں زیادہ ریکارڈ ہوئے۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ سندھ کے ساحلی علاقے موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث خاص طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔ سمندری طوفان، سیلاب، آلودہ پانی اور درجہ حرارت میں اضافہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں اور مچھروں کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماریوں کے خطرات بڑھا رہے ہیں۔
ماہرین صحت نے تجویز دی ہے کہ موسمیاتی معلومات کو صحت کے نگرانی نظام کے ساتھ جوڑا جائے تاکہ بیماریوں کے پھیلاؤ کی پیشگی نشاندہی کی جا سکے، ادویات اور طبی سہولیات پہلے سے فراہم کی جا سکیں اور کمزور آبادیوں کو بہتر تحفظ دیا جا سکے۔
تحقیق کے مطابق پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ ایک بڑا عوامی صحت کا چیلنج بھی بن چکی ہے، جس کے لیے صحت اور موسمیاتی اداروں کے درمیان بہتر رابطہ ضروری ہے۔





