پاکستان میں 40 نئی زندگی بچانے والی ادویات مریضوں کی پہنچ سے باہر

پاکستان میں 40 نئی زندگی بچانے والی ادویات مریضوں کی پہنچ سے باہر

، قیمتوں کی منظوری میں تاخیر

کراچی: پاکستان میں تقریباً 40 نئی رجسٹرڈ زندگی بچانے والی ادویات مریضوں کو دستیاب نہیں ہو سکیں کیونکہ وفاقی حکومت نے ان کی قیمتوں کی منظوری ابھی تک نہیں دی۔ اس صورتحال کے باعث کینسر، ذیابیطس، ہیموفیلیا، پارکنسنز اور دیگر سنگین بیماریوں میں مبتلا مریض مہنگی غیر رجسٹرڈ یا اسمگل شدہ ادویات خریدنے پر مجبور ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ ادویات ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے تمام قانونی مراحل مکمل کرنے کے بعد رجسٹر ہو چکی ہیں، لیکن جب تک وفاقی حکومت ان کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمتیں مقرر نہیں کرتی، انہیں قانونی طور پر مارکیٹ میں فروخت نہیں کیا جا سکتا۔
متاثرہ ادویات میں جدید کینسر کے علاج کی ادویات، ذیابیطس کے لیے انسولین، مدافعتی بیماریوں، ہیموفیلیا، پارکنزنز، خون جمنے سے روکنے والی ادویات، شدید انفیکشنز کے علاج کی ادویات، ویکسین اور انتہائی نگہداشت کے شعبوں میں استعمال ہونے والی ضروری ادویات شامل ہیں۔
ڈریپ کے مطابق ادویات کی قیمتوں کے تعین کی سفارشات دسمبر 2024 سے جون 2025 کے دوران مکمل کر کے وفاقی حکومت کو بھیج دی گئی تھیں، تاہم حتمی منظوری تاحال زیر التوا ہے۔ حکومت نے پہلے 35 نئی رجسٹرڈ ادویات کی قیمتوں کی منظوری دی تھی، جبکہ باقی 40 ادویات کابینہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ کی منظوری کی منتظر ہیں۔
پاکستان کیمسٹس اینڈ ڈرگس ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ جب مریضوں کو مستند ادویات قانونی فارمیسیوں سے نہیں ملتیں تو وہ غیر قانونی ذرائع کا رخ کرتے ہیں، جس سے جعلی اور غیر معیاری ادویات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے تسلیم کیا ہے کہ مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ پہلے سے موجود ادویات کی قیمتیں بڑھانے کا نہیں بلکہ نئی زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتوں کی منظوری کا ہے تاکہ مریضوں کو معیاری ادویات قانونی طریقے سے دستیاب ہو سکیں۔
ماہرین صحت کے مطابق نئی اور جدید علاج کی ادویات کی بروقت دستیابی نہ صرف مریضوں کی زندگیوں کو متاثر کرتی ہے بلکہ غیر قانونی ادویات کی مارکیٹ کو بھی فروغ دے سکتی ہے۔

قومی خبریں سے مزید