وندے ماترم کا تاریخی تنازع: قومی گیت، مذہبی اعتراضات اور مودی حکومت کے نئے قانون کے پس پردہ مقاصد
بھارتی سرکار نے متنازع بھارتی ترانے وندے ماترم کی توہین پر تین سال قید کی سزا دینے کا قانون متعارف کروانے کا فیصلہ کیاہے،بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کل پارلیمنٹ میں یہ بل پیش کریں گے
بھارت میں وندے ماترم کا معاملہ صرف ایک گیت کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ برصغیر کی نوآبادیاتی تاریخ، مذہبی شناخت، قوم پرستی اور جدید بھارتی سیاست سے جڑا ہوا ایک پیچیدہ تنازع ہے۔ اگرچہ وندے ماترم کو بھارت میں قومی گیت کا درجہ حاصل ہے، لیکن اسے قومی ترانے کا مقام حاصل نہیں۔ بھارت کا سرکاری قومی ترانہ جن گن من ہے
وندے ماترم کی تاریخ 19ویں صدی کے آخر تک جاتی ہے۔ اسے بنگالی مصنف بنکم چندر چٹوپادھیائے نے اپنے مشہور ناول آنند مٹھ میں شامل کیا تھا، جو 1882 میں شائع ہوا۔ یہ گیت ابتدا میں برطانوی نوآبادیاتی حکومت کے خلاف بنگالی قوم پرستانہ تحریک کے دوران ایک مزاحمتی نعرے کے طور پر مقبول ہوا
1905 کی بنگال تقسیم کے خلاف تحریک میں وندے ماترم آزادی پسندوں کے درمیان بہت مقبول ہوا۔ کانگریس کے کئی رہنماؤں نے اسے برطانوی حکومت کے خلاف سیاسی جدوجہد کی علامت کے طور پر استعمال کیا۔ اسی دور میں یہ گیت ہندوستانی قوم پرستی کی ایک بڑی علامت بن گیا
لیکن اس کے ساتھ ہی ایک دوسرا پہلو بھی موجود تھا، جس نے بعد میں تنازع پیدا کیا
گیت کے ابتدائی اشعار میں مادرِ وطن کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے، لیکن بعد کے حصوں میں بھارت ماتا کو دیوی کی شکل میں پیش کیا گیا ہے اور ہندو مذہبی علامات استعمال کی گئی ہیں۔ بعض مسلمان رہنماؤں نے اسی بنیاد پر اعتراض کیا کہ ایک مسلمان کے لیے کسی سرزمین کو دیوی کے طور پر پوجنا مذہبی طور پر قابل قبول نہیں ہوسکتا
اسی وجہ سے برطانوی دور کے آخری برسوں میں بھی بعض مسلم رہنماؤں نے وندے ماترم پر تحفظات ظاہر کیے۔ ان کا مؤقف تھا کہ آزادی کی تحریک میں ایسا قومی نشان ہونا چاہیے جسے تمام مذاہب کے لوگ بلا جھجھک قبول کرسکیں
یہ بھی درست ہے کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ابتدائی دور میں اس گیت کو لے کر آج جیسی سیاسی مرکزی حیثیت نہیں تھی۔ آر ایس ایس کی توجہ زیادہ تر ہندو سماجی تنظیم سازی اور ثقافتی قوم پرستی پر تھی، جبکہ وندے ماترم کا استعمال مختلف قوم پرست حلقوں میں الگ الگ انداز میں ہوتا رہا۔ بعد کے عشروں میں ہندو قوم پرست سیاست نے اسے اپنی شناخت کے اہم علامات میں شامل کیا
1947 کے بعد جب بھارت کا آئین اور قومی علامات طے کی جا رہی تھیں تو وندے ماترم کے معاملے پر بھی بحث ہوئی۔ بالآخر اسے قومی گیت کا درجہ دیا گیا، جبکہ جن گن من کو قومی ترانہ منتخب کیا گیا تاکہ ایک ایسی علامت ہو جو مختلف مذہبی اور ثقافتی گروہوں کے لیے زیادہ قابل قبول ہو
اب اگر موجودہ حکومت وندے ماترم کے دوران مبینہ توہین یا رکاوٹ پر سزا کا قانون لانے کی بات کر رہی ہے تو اس کے کئی ممکنہ سیاسی پہلو دیکھے جا سکتے ہیں
حکومت کا مؤقف ممکنہ طور پر یہ ہوگا کہ قومی علامات کا احترام ضروری ہے اور کسی بھی ملک میں قومی علامتوں کی توہین قابل قبول نہیں ہونی چاہیے
لیکن ناقدین اس پر سوال اٹھاتے ہیں کہ چونکہ وندے ماترم قومی ترانہ نہیں بلکہ قومی گیت ہے، اس لیے اس کے احترام کے لیے فوجداری سزا کا قانون کیوں ضروری سمجھا جا رہا ہے؟ بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارت میں مذہبی اور سیاسی ماحول کے تناظر میں ایسا قانون خاص طور پر مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال ہوسکتا ہے
تاہم اس معاملے کو صرف مسلمانوں کے خلاف اقدام کہنا بھی ایک سیاسی تعبیر ہے؛ اصل حقیقت یہ ہے کہ وندے ماترم کا تنازع تقریباً ایک صدی پرانا ہے اور اس میں مذہب، قوم پرستی اور ریاستی شناخت کے سوال شامل ہیں
مودی حکومت کے دور میں قومی علامتوں، تاریخی شخصیات اور ثقافتی نشانات کے حوالے سے کئی بحثیں دوبارہ زندہ ہوئی ہیں۔ حامی اسے بھارتی ثقافتی ورثے کی بحالی قرار دیتے ہیں، جبکہ مخالفین اسے اکثریتی قوم پرستی کے فروغ کے طور پر دیکھتے ہیں
اصل سوال یہ ہے کہ ایک کثیر مذہبی ملک میں قومی یکجہتی کی علامتیں ایسی ہونی چاہئیں جو سب شہریوں کو برابر کا احساس دیں، یا اکثریتی ثقافت کی تاریخی علامتوں کو زیادہ نمایاں مقام دیا جائے
وندے ماترم کا تنازع دراصل اسی بنیادی سوال کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ صرف ایک گیت کا معاملہ نہیں بلکہ یہ بحث ہے کہ جدید بھارت کی قومی شناخت کی بنیاد کیا ہوگی





