چھوٹی سی سائنسی کامیابی جو مصنوعی ذہانت کے بڑے ڈیٹا مراکز کا مستقبل بدل سکتی ہے
دنیا میں معلومات کا حجم اس رفتار سے بڑھ رہا ہے کہ موجودہ ڈیجیٹل ذخیرہ کرنے کے طریقے دباؤ کا شکار ہوچکے ہیں۔ سائنس دان اب ایسی نئی ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں جو نہ صرف ڈیٹا محفوظ کرنے کے انداز کو بدل سکتی ہے بلکہ توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران کو بھی کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
دنیا بھر میں پیدا ہونے والی معلومات کی مقدار حیران کن حد تک بڑھ چکی ہے۔ ماہر طبیعیات میلون ووپسن کے مطابق 2020 میں دنیا میں تخلیق، محفوظ، نقل اور استعمال کی جانے والی معلومات کا حجم تقریباً 59 زیٹا بائٹس تک پہنچ گیا تھا۔ ایک زیٹا بائٹ میں تقریباً 8,000,000,000,000,000,000,000 بٹس شامل ہوتے ہیں۔
اس بے پناہ ڈیٹا کا بڑا حصہ بڑے ڈیٹا مراکز میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ یہ مراکز کئی فٹبال میدانوں جتنی جگہ گھیر سکتے ہیں، انہیں چلانے کے لیے بہت زیادہ بجلی اور پانی درکار ہوتا ہے، جبکہ ان کی تعمیر اور دیکھ بھال پر اربوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلاؤ نے اس مسئلے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ جدید مصنوعی ذہانت کے نظام کو تربیت دینے اور چلانے کے لیے بہت بڑی کمپیوٹنگ طاقت درکار ہوتی ہے، جس کے باعث ڈیٹا مراکز کی توانائی کی ضرورت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
بین الاقوامی توانائی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ صرف ڈیٹا مراکز سے پیدا ہونے والی عالمی بجلی کی طلب 2030 تک دوگنی سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے، جو تقریباً 945 ٹیرا واٹ گھنٹے تک پہنچنے کا امکان ہے۔ یہ مقدار تقریباً جاپان جیسے ملک کی سالانہ بجلی کی کھپت کے برابر ہوسکتی ہے۔
امریکی توانائی کے محکمے کی ایک رپورٹ کے مطابق اگر یہ رجحان اسی رفتار سے جاری رہا تو بجلی کے نظام پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور امریکہ میں بجلی کی بندش کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔
اسی پس منظر میں سائنس دان ایسی نئی دریافتوں پر کام کر رہے ہیں جنہیں مستقبل میں ڈیجیٹل ذخیرہ کرنے کے انقلاب کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ معلومات کم جگہ، کم توانائی اور کم خرچ میں محفوظ کی جاسکیں۔
اگر یہ نئی ٹیکنالوجی کامیاب ہوتی ہے تو ممکن ہے کہ مستقبل میں آج کے بڑے بڑے ڈیٹا مراکز کی ضرورت کم ہوجائے اور معلومات محفوظ کرنے کا پورا نظام ایک نئے دور میں داخل ہوجائے۔
یہ تبدیلی صرف ٹیکنالوجی کا معاملہ نہیں بلکہ توانائی، ماحول اور عالمی معیشت کے لیے بھی انتہائی اہم ثابت ہوسکتی ہے، کیونکہ مصنوعی ذہانت کے دور میں اصل مقابلہ صرف زیادہ ذہین نظام بنانے کا نہیں بلکہ انہیں چلانے کے لیے پائیدار اور کم توانائی والے طریقے تلاش کرنے کا بھی ہے





