ایپل کی اچانک برتری نے ظاہر کردیا کہ مصنوعی ذہانت کی دولت کا رخ اب کہاں بدل رہا ہے
مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں ایک نیا موڑ اس وقت سامنے آیا جب ایپل نے مختصر وقت کے لیے دنیا کی سب سے زیادہ مالیت رکھنے والی کمپنی کا مقام حاصل کرلیا اور اس میدان کی بڑی فاتح سمجھی جانے والی کمپنی کو پیچھے چھوڑ دیا۔ یہ تبدیلی اس بات کا اشارہ ہے کہ سرمایہ کار اب صرف مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے پر نہیں بلکہ اس سوال پر بھی توجہ دے رہے ہیں کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی سب سے زیادہ مستقل آمدنی کس کمپنی کے لیے پیدا کرے گی۔
امریکی حصص بازار میں ہونے والی اس تبدیلی نے ایک بڑی بحث کو جنم دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے انقلاب کا اگلا مرحلہ کس کے حق میں جائے گا۔ گزشتہ چند برسوں میں این ویڈیا نے مصنوعی ذہانت کے لیے ضروری جدید چپس تیار کرکے غیر معمولی ترقی حاصل کی، لیکن اب سرمایہ کار یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کون سی کمپنیاں اس ٹیکنالوجی کو عام صارفین تک پہنچا کر حقیقی کاروباری فائدہ حاصل کرسکیں گی۔
کاروباری دن کے اختتام پر این ویڈیا کی مجموعی مالیت تقریباً $4.95 Trillion جبکہ ایپل کی مالیت تقریباً $4.91 Trillion رہی۔ دونوں کمپنیوں کے درمیان معمولی فرق نے واضح کردیا کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے





