سرمایہ کاروں کی توجہ میگنیفیسنٹ سیون سے ہٹ کر مصنوعی ذہانت کے نئے ستاروں کی طرف منتقل ہونے لگی
گزشتہ چند برسوں میں امریکی اسٹاک مارکیٹ کی کہانی بڑی حد تک چند بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے گرد گھومتی رہی۔ ایپل، مائیکروسافٹ، این ویڈیا، ایمیزون، الفابیٹ، میٹا اور ٹیسلا جیسی کمپنیاں، جنہیں مالیاتی دنیا میں میگنیفیسنٹ سیون کہا جاتا ہے، مصنوعی ذہانت کے انقلاب کی سب سے بڑی فاتح سمجھی جاتی رہی ہیں۔
لیکن اب سرمایہ کاروں کے رویے میں ایک بڑی تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ وہ صرف انہی بڑی کمپنیوں کے حصص خریدنے کے بجائے مصنوعی ذہانت کی نئی کمپنیوں، نئے سافٹ ویئر اداروں اور ایسے کاروباروں کی تلاش کر رہے ہیں جو آنے والے برسوں میں اے آئی انقلاب سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
اس تبدیلی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ کار سمجھ رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کا فائدہ صرف چند بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں تک محدود نہیں رہے گا۔ جس طرح انٹرنیٹ کے ابتدائی دور میں کچھ کمپنیاں بڑی فاتح بنیں، لیکن بعد میں ہزاروں دیگر کاروبار بھی اس تبدیلی سے فائدہ اٹھانے لگے، اسی طرح اے آئی کے شعبے میں بھی نئی کمپنیاں اب توجہ حاصل کر رہی ہیں۔
این ویڈیا جیسے اداروں نے اے آئی کے لیے ضروری چپس کی وجہ سے تاریخی ترقی دیکھی، لیکن اب سرمایہ کار ان کمپنیوں کو تلاش کر رہے ہیں جو اے آئی کو عملی استعمال میں لا رہی ہیں، مثلاً کاروباری خودکاری، سائبر سکیورٹی، صحت، مالیاتی خدمات اور ڈیٹا کے شعبے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مرحلہ اے آئی سرمایہ کاری کے دوسرے دور کی علامت ہوسکتا ہے۔ پہلے مرحلے میں سرمایہ کاروں نے بنیادی ڈھانچہ بنانے والی کمپنیوں پر توجہ دی، جبکہ اب وہ ان اداروں کی تلاش میں ہیں جو اے آئی سے حقیقی آمدنی پیدا کرسکیں۔
تاہم خطرہ بھی موجود ہے۔ تاریخ میں نئی ٹیکنالوجی کے ہر انقلاب کے دوران کچھ کمپنیاں غیر معمولی رفتار سے اوپر گئیں، لیکن بعد میں صرف وہی ادارے کامیاب رہے جن کے پاس مضبوط کاروباری بنیاد موجود تھی۔
مصنوعی ذہانت کی دوڑ اب صرف یہ نہیں رہی کہ کون سب سے طاقتور کمپیوٹر بناتا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کون اس ٹیکنالوجی کو منافع بخش کاروبار میں تبدیل کر سکتا ہے۔
اسی لیے وال اسٹریٹ پر اب ایک نئی جنگ شروع ہوچکی ہے: میگنیفیسنٹ سیون کے بعد اے آئی کے اگلے بڑے فاتح کون ہوں گے





