آزادکشمیر سے تعلق رکھنے والی فاطمہ انور کہانی انکی اپنی زبانی، جس کا حاصل ہے،یہ پورا نظام مسترد

آزادکشمیر سے تعلق رکھنے والی *فاطمہ انورکی کہانی انکی اپنی زبانی، جس کا حاصل ہے،یہ پورا نظام مسترد

آج سے دس دن بعد آزادکشمیر میں الیکشنز ہیں۔میرے حلقے سے ہماری پارٹی (پیپلزپارٹی) نے ٹکٹ احمد صغیر صاحب کو دیا ہے۔ احمد صغیر صاحب کی والدہ پچھلے الیکشنز میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ سے الیکشن جیتی اور اُس کے بعد پانچ سال تک اسمبلی نہیں گئی اور نا کسی قانون سازی کا حصہ بنی۔ البتہ تمام سرکاری مراعات کے علاوہ احمد صغیر صاحب تین مختلف جماعتوں سے حکومت کے مشیر رہے ترقیاتی فنڈز لیتے رہے اور بہت سے محکمے جو اُن کی ذمہ داری تھے اُن کے بجٹ کے پیسے وہ خرچ ہی نہیں کر سکے۔
میرے حلقے کی سڑکیں موت کا کنواں ہیں۔ سکول اور سڑکیں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت بنوا رہے ہیں میری یونین کونسل اور تحصیل کا ایک چھوٹا سا ہیلتھ یونٹ جس کے لیے ہم سب نے آنسو گیس، شیلنگ اور گولیاں تک کھائی اُس کی خالی بلڈنگ منشیات فروشوں کا اڈا بن چکی ہے۔ آج بھی خواتین پانی لانے کے لیے تین تین کلومیٹر دور جاتی ہیں۔
جب میرے والد صاحب کی صحت خراب ہوئی تو تحصیل ہیڈ کواٹر میں سی پی آر دینے والا بھی کوئی موجود نہیں تھا۔ راولپنڈی لے جائیں والی کہانی دہرائی گئی لیکن ہم سب راولپنڈی لے جانے والے رستوں پر ہی مرتے ہیں لہذا وہ رستے میں ہی لائف سیونگ سسٹم نا ہونے کی وجہ سے فوت ہوئے۔
پیپلزپارٹی کی کوئی مجبوری ہو گی کہ اُنھوں نے احمد صغیر صاھب کو ٹکٹ دیا لیکن ہماری ایسی کوئی مجبوری نہیں ہے، نا ہمارا پارٹی سے کوئی مفاد ہے، نا ہمیں کسی عہدے کی لالچ ہے لہذا میں یا ہمارا کوئی عزیز احمد صغیر کو ووٹ نہیں دے گا۔ جس انسان کا خاندان پچھلے بیس سال سے زائد سے اقتدار میں ہو اور عوام کو ایک فیصد کوئی سہولت مہیسر نا ہو ہماری طرف سے وہ مسترد ہے۔

قومی خبریں سے مزید