کیا وزرا یا حکومت کی تبدیلی سے تنزلی کا عمل رک جائے گا؟ حکومت اور اسٹیک ہولڈر کی انگلیاں گھی اور سر کڑاہی میں
وفاقی وزارتوں میں ردوبدل کی خبریں پاکستان کے میڈیا میں اسوقت سب کی توجّہ مبذول کروائے ہوئے ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر اطلاعات عطا تارّر سمیت متعدد سینئر کیبنٹ ممبرز کی کارکردگی سے وزیر اعظم خوش نہیں ہیں اسلئے نئے چہرے سامنے لانے پر غور ہو رہا ہے۔ عوام کی رائے لی جائے تو وزیر اعظم سمیت کسی بھی وزیر کی کارکردگی انتہائی مایوس کن بلکہ شرمناک ہے، ملک میں انڈسٹری بند پڑی ہے، ایکسپورٹ میں کمی ہو رہی ہے، مہنگائی اور بیروزگاری بڑھ رہی ہے، ٹیکس کا نظام تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ کرپشن اور اسمگلنگ عروج پر اور امن و عامہ کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ یہاں تک کہ زراعت میں بھی بہت پیچھے چلے گئے ہیں اور ملک کو غذائی قلت کا سامنا ہے ۔ آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ بچوں اور نوجوانوں کو تعلیمی سہولیات ناکافی اور غیر معیاری ہیں۔ صحت کی سہولیات کا یہ عالم ہے کہ محب وطن حکومتی وزیر ، اعلیٰ افسران اور صاحب ثروت لوگ علاج معالجے کیلئے بیرون ملک جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اقوام عالم میں ہمارے پاسپورٹ کی تذلیل سب پر عیاں ہے مگر ہمارے ُوزرا، ممبران پارلیمنٹ اور سرکاری و عسکری افسران اور عدلیہ کے معزز ججوں کو بلیو اور ریڈ پاسپورٹ چاہئیں تاکہ انکے بیرون ملک جانے کے راستے کُھلے رہیں۔ غریب عوام کا روزگار چھینا جا رہا ہے اور کاروباری لوگ طاقتوروں کو بھتہ دیے بغیر کاروبار نہیں کر سکتے۔ بیرون ملک رہنے والے جو محنت مزدوری کر کے قیمتی زر مبادلہ اپنے ملک بھیجتے ہیں ان کو مختلف وجوہات کی بنا پر تنگ کیا جا رہا ہے، انکی حب الوطنی اور ملک میں انصاف کی دہائی کو بنیاد بنا کر انکے شناختی کارڈ، نائکوپ کارڈ اور پاسپورٹ کینسل کیے جا رہے ہیں ۔ ملک کو اس حال میں پہنچانے کے ذُمّہ دار صرف موجودہ حکمران اور انکے اتحادی نہیں بلکہ مقتدرہ انکے ساتھ برابر کی شریک ہے اور اپنا حصہ بحثیت جثہ یا بزور طاقت برابر وصول کر رہی ہے۔ رہ گئے مجبور عوام تو وہ انکی چالاکیوں پر سر دھنتے رہیں۔





