ایف ڈی اے کی منظوری، کولیسٹرول کم کرنے والی نئی دوا روایتی ادویات سے زیادہ مؤثر قرار

ایف ڈی اے کی منظوری، کولیسٹرول کم کرنے والی نئی دوا روایتی ادویات سے زیادہ مؤثر قرار

امریکی ادارہ برائے خوراک و ادویات نے کولیسٹرول کم کرنے والی ایک نئی دوا کی منظوری دے دی ہے، جس کے بارے میں طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح کو روایتی ادویات کے مقابلے میں کہیں زیادہ کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

طویل عرصے سے دل کے امراض کے خطرے کو کم کرنے کے لیے اسٹیٹن نامی ادویات استعمال کی جا رہی ہیں۔ یہ دوائیں خون میں موجود نقصان دہ کولیسٹرول، جسے کم کثافت والا لیپوپروٹین کہا جاتا ہے، کی مقدار کم کرتی ہیں۔ یہی کولیسٹرول شریانوں کے اندر چربی کی تہہ جمانے کا سبب بنتا ہے، جس سے دل کے دورے اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

طبی تحقیق کے مطابق زیادہ تر بالغ افراد میں نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح 100 سے زیادہ ہوتی ہے، لیکن نئی منظور شدہ دوا کے تجربات میں دیکھا گیا کہ یہ سطح کو تقریباً 50 یا اس سے بھی کم تک لانے میں کامیاب رہی۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس نئی دوا کے نتائج حوصلہ افزا ہیں، تاہم ہر مریض کے لیے اس کا استعمال ضروری نہیں ہوگا۔ ڈاکٹر مریض کی عمر، دل کی بیماری کے خطرے، پہلے سے موجود طبی مسائل اور دیگر عوامل کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے کہ کون سی دوا زیادہ موزوں ہے۔

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کولیسٹرول کو قابو میں رکھنے کے لیے ادویات کے ساتھ ساتھ متوازن غذا، ورزش اور صحت مند طرز زندگی بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ نئی دوا دل کے امراض کے علاج میں ایک اہم اضافہ ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ان مریضوں کے لیے جن میں روایتی علاج سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو پاتے

قومی خبریں سے مزید