ٹرمپ کی جانب سے امریکی انتخابی نظام میں بڑی تبدیلیاں، ناقدین کا کہنا ہے کہ ادارے کو بتدریج کمزور کیا جا رہا ہے

ٹرمپ کی جانب سے امریکی انتخابی نظام میں بڑی تبدیلیاں، ناقدین کا کہنا ہے کہ ادارے کو بتدریج کمزور کیا جا رہا ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کے انتخابی نظام میں تبدیلیوں کا عمل تیز کر دیا ہے، جہاں ان کی انتظامیہ انتخابی ڈھانچے میں کئی سطحوں پر تبدیلیاں، برطرفیاں اور نئے اقدامات کر رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ عمل کسی ایک بڑے فیصلے کے بجائے چھوٹے چھوٹے اقدامات کے ذریعے موجودہ نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ مسلسل اس مؤقف پر قائم ہیں کہ امریکی انتخابی نظام میں خامیاں موجود ہیں اور ماضی میں انتخابات کے طریقہ کار پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔ ان کی انتظامیہ نے اقتدار میں واپسی کے بعد انتخابی اداروں اور پالیسیوں میں تبدیلی کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔

گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس نے نسبتاً کم معروف ادارے انتخابی معاونت کمیشن میں بڑی تبدیلیاں کیں، جس پر کئی ریاستی انتخابی حکام نے تشویش کا اظہار کیا۔ ان حکام کا کہنا تھا کہ اس سے ریاستوں اور مقامی حکومتوں کے لیے سائبر سیکیورٹی وسائل متاثر ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے صدارتی اختیارات کے ذریعے انتخابی پالیسی تبدیل کرنے کی متعدد کوششیں کیں، تاہم بعض اقدامات کو عدالتوں کی جانب سے روک دیا گیا۔

اسی دوران ٹرمپ کانگریس میں اپنے ری پبلکن اتحادیوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ ایسا قانون منظور کریں جس کے تحت ووٹ ڈالنے کے لیے شہریوں کو اپنی شہریت کا ثبوت پیش کرنا لازمی قرار دیا جائے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق امریکی انتخابی نظام میں تبدیلی کی یہ کوشش آئندہ وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایک اہم سیاسی معاملہ بن چکی ہے، جبکہ ریاستی حکام، قانونی ماہرین اور سیاسی جماعتیں اس کے اثرات پر بحث کر رہی ہیں

قومی خبریں سے مزید