سابق رکن پارلیمنٹ راج گریوال اور انکے خاندان کو 137 ملین ڈالر مقدمے کا سامنا ، مقدمے کی سماعت اونٹاریو سپریم کورٹ میں ہوگی
سابق لبرل رکنِ پارلیمنٹ راج گریوال، ان کی اہلیہ، والد اور مرحوم والدہ کی جائیداد کو 137 ملین ڈالر کے ایک بڑے سول مقدمے میں مدعا علیہ بنایا گیا ہے۔ یہ مقدمہ اونٹاریو سپیریئر کورٹ آف جسٹس کی کمرشل لسٹ میں دائر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ صرف الزامات ہیں، جن پر ابھی عدالت نے کوئی فیصلہ نہیں دیا اور نہ ہی مقدمے کی سماعت میں ان کی سچائی ثابت ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹورنٹو کی معروف قانونی فرم Torkin Manes LLP نے بھی راج گریوال اور ان کے والد کے خلاف الگ مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں تقریباً 123 ہزار ڈالر کی قانونی فیس کی عدم ادائیگی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
راج گریوال کے وکیل نے دی پوائنٹر کو بتایا کہ ان کے علم کے مطابق مدعی اور مدعا علیہان مبینہ واجبات کی ادائیگی کے لیے ایک معاہدے پر کام کر رہے ہیں۔ دوسری جانب بعض دیگر مدعا علیہان کے وکیل نے کہا کہ ان کے مؤکلوں کو ابھی تک مقدمے کی باضابطہ طور پر سروس نہیں ہوئی اور انہوں نے الزامات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
یہ مقدمہ راج گریوال کے خلاف حالیہ مہینوں میں سامنے آنے والے متعدد سول مقدمات کی تازہ کڑی ہے، جن میں جائیدادوں، رہن اور مالی لین دین سے متعلق مختلف الزامات شامل ہیں۔ تاہم، تمام مقدمات اس وقت عدالتی کارروائی کے مراحل میں ہیں اور ابھی تک کسی بھی الزام کو عدالت میں ثابت نہیں کیا گیا۔
18 نجی قرض دہندگان نے تقریباً 137 ملین ڈالر کے دعوے کے ساتھ مقدمہ دائر کیا ہے۔
مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ 107 ملین ڈالر سے زائد کے رہن (Mortgage) سے متعلق لین دین میں دھوکہ دہی، سازش اور رہن کے اندراجات کو قرض دہندگان کی اجازت کے بغیر ختم کرنے کا عمل کیا گیا۔
مدعی عدالت سے تقریباً 40 جائیدادوں کے تحفظ کے لیے ریسیور مقرر کرنے کی بھی درخواست کر رہے ہیں تاکہ اثاثوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔
مقدمے میں راج گریوال کے علاوہ ان کی اہلیہ شیکھا کاسل، والد اوتار گریوال، مرحوم والدہ کی اسٹیٹ، RSG Law اور متعدد کمپنیوں سمیت مجموعی طور پر 53 مدعا علیہان کو نامزد کیا گیا ہے۔





