بی جے پی کا تاج محل پر بھی گھٹیا دعوی، حکومت کو عدالت نے نوٹس جاری کردئیے


بی جے پی کا تاج محل پر بھی گھٹیا دعوی، حکومت کو عدالت نے نوٹس جاری کردئیے

بھارت جہاں بی جے پی سرکار مذہبی انتہا پسندی کی آڑ میں تیسری بار حکمرانی کررہی ہے اور بھارت کی غیر ہندو آبادی خصوصا مسلمانوں کو تنگ کرنا اسکا بنیادی فلسفہ حکمرانی ہے کے ایک رہنما نے آگرہ میں چار سو سال سے فن تعمیر کے شاہکار تاج محل پر دعویٰ کیا ہے یہ کبھی مندر تھا جسے مغل بادشاہ نے منہدم کرکے اپنی بیگم کی یادگار تاج محل میں تبدیل کردیا ، یہاں یہ امر دلچسپی سے ہر گز خالی نہیں بھارت کے ایک وکیل اور برائے نام صحافی پی کے این اوک نے پہلے ایک کتاب لکھی تاج محل چوتھی صدی میں مندر تھا جب ملک کے تاریخ دانوں نے اس دعویٰ کو یہ کہکر مسترد کردیا مغل طرز تعمیر تو مغلوں سے پہلے ہندوستان میں موجود ہی نہیں تھی تو اسی احمق وکیل نے ایک دوسری کتاب لکھ کر ثابت کرنے کی کوشش کی تاج محل بارہویں صدی میں ہندو عبادت گاہ سے تبدیل کرکے تاج محل میں تبدیل کیا گیا ، اسی بنیاد پر بی جے پی کے ایک جاہل انتہا پسند رہنما نے پہلے آگرہ کی مقامی عدالت میں مقدمہ کیا جو مسترد کردیا گیا تاہم اب بی جے پی یہ مقدمہ ہائ کورٹ لے گئی ہے جہاں عدالت نے حکومت اور مختلف اداروں کو نوٹس جاری کردئیے ہیں

قومی خبریں سے مزید